پاکستان کو نمائشی اقدامات نہیں، نئے نظام کی ضرورت ہے، حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ آخر تھانے کو یہ جرات اور اختیار کس نے دیا کہ وہ ایک مظلوم شہری پر تشدد کرے؟ انہوں نے پنجاب میں بااختیار نچلی سطح کے بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر میونسپل سروسز کا ذمے دار عوام کو جوابدہ منتخب کونسلر یا یونین کونسل چیئرمین ہوتا تو ایسے واقعات پیش نہ آتے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ داتا دربار پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے پنجاب حکومت، پولیس نظام اور اختیارات کے موجودہ ڈھانچے پر کڑی تنقید کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں نام نہاد "گڈ گورننس" اور "تھانہ کلچر" کا پول ایک ہی واقعے نے کھول کر رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق ایک حادثے کو پہلے "فیک نیوز" قرار دیا گیا اور پھر مظلوم شہری کو مجرم ثابت کرنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تمام حربے ناکام ہوگئے اور حقیقت سامنے آگئی تو نمائشی کارروائی کرتے ہوئے عدالت لگائی گئی اور چند افسران کو برطرف کرنے کا شاہی فرمان جاری کر دیا گیا، لیکن اصل مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ آخر تھانے کو یہ جرات اور اختیار کس نے دیا کہ وہ ایک مظلوم شہری پر تشدد کرے؟ انہوں نے پنجاب میں بااختیار نچلی سطح کے بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر میونسپل سروسز کا ذمے دار عوام کو جوابدہ منتخب کونسلر یا یونین کونسل چیئرمین ہوتا تو ایسے واقعات پیش نہ آتے۔ انہوں نے وزیراعظم کے مشیر کے بیان پر بھی تنقید کی جنہوں نے یہ کہہ کر ذمہ داری سے جان چھڑانے کی کوشش کی کہ گٹر پر ڈھکن لگانے کی ذمہ داری وزیراعلیٰ کی نہیں بلکہ یونین کونسل کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یونین کونسل ذمہ دار ہے تو اس کا منتخب چیئرمین کہاں ہے؟ اختیارات کا مرکز و محور ایک ہی خاندان کیوں بنا ہوا ہے؟ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو اداکاری اور نمائشی اقدامات کی نہیں بلکہ ایک نئے نظام کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق تمام اختیارات ایک خاندان کے ہاتھ میں رکھنے کا نظام اب مزید نہیں چل سکتا اور اسے بدلنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان یونین کونسل انہوں نے نظام کی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.