بحرانوں سے نجات کیلیے قومی ترجیحات پر ہم آہنگی ناگزیر ہے‘لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260131-08-13
بنوں/مردان/ملتان(جسارت نیوز)نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے بنوں میں الخدمت اسپتال، 15 جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب میں شرکت اور خطاب کیا۔ مردان میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام انفاق فی سبیل اللہ مہم کی ڈونرز کانفرنس میں شرکت اور خطاب کیا۔ ملتان میں اسلامی جمعیت طلبہ کے سابقین احباب کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کو بحرانوں سے نجات دِلانے کے لیے اسلامی نظریاتی پختہ کردار، دوقومی نظریے سے ہم آہنگ وژن اور وسیع تر قومی ترجیحات پر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ ہر دور کے نوجوانوں کی رہنما، محسن اور زندگیوں کو بامقصد بنانے کی تحریک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہر طرح کی نعمتوں سے مالامال کیا ہے لیکن 78 سال سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی، ہائیبرڈ نظام اور مسلم لیگ، پی پی پی، پی ٹی آئی کے ادوارِ اقتدار ملک و ملت کے لیے انتہائی ناکام، ناکارہ اور فرسودہ نظام ثابت ہوئے ہیں۔ ہر ادارے میں محب وطن، اہل، دیانت دار اور جدید دور سے ہم آہنگ باصلاحیت افراد موجود ہیں، جو ملک و ملت کا قابل فخر سرمایہ ہیں لیکن اشرافیہ اور کرپٹ لوگوں کے مفادات کا محافظ نظام اہل لوگوں کو نظرانداز کرتا ہے اور نااہل، کرپٹ، چاپلوس لوگ غلبہ پالیتے ہیں۔ جماعت اسلامی ہر شعبہ زندگی کے اہل، دلیر اور ملک و ملت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والوں کو منظم کرکے آئین کی فرمانروائی اور قرآن و سنت کی بالادستی کا نظام لائے گی۔لیاقت بلوچ نے خیبرپختونخوا میں بدامنی، دہشت گردی اور عوام کی جان مال عزت کو لاحق حقیقی خطرات پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وادی تیراہ کے عوام شدید ترین سرد موسم میں اَن گِنت مسائل سے دوچار ہیں۔ صوبائی حکومت نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے سرنڈر کردیا، اب وفاق اور صوبائی حکومت لاعلمی اور لاتعلقی کا اعلان کررہے ہیں، یہ عوام کے ساتھ بڑا دھوکا ہے۔ پی ٹی آئی کو حق ہے کہ اپنی قیادت کی رہائی کی جدوجہد کرے، اپوزیشن محاذ پر اپنا آئینی اور جمہوری کردار ادا کرے لیکن صوبائی حکومت کا اصل فرض صوبے میں گْڈگورننس، عوام کی جان مال عزت کا تحفظ ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت ہائبرڈ نظام کا حصہ بھی ہے اور اپوزیشن کا کردار بھی سنبھالے ہوئے ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام بیک وقت بنیادی حقوق سے محروم ہیں، مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی عوام پر مسلط ہے، سرکاری محکموں کی کرپشن اور کھلے عام عوام کو بلیک میل کرنے کا مکروہ دھندا جاری ہے۔ کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی واقعہ اور لاہور کے گندے نالے کے کھلے مین ہول میں ماں اور بیٹی کا گِرکر جاں بحق ہونا ایک طرح کے قومی المیے ہیں، جن کے پیچھے کرپشن، غفلت، لاپروائی اور بیڈگورننس کی داستانیں ہیں۔ عوام مسلم لیگ، پی ٹی آئی، پی پی پی کے ناکام، فرسودہ اور تکلیف دہ طرزِ حکمرانی سے عاجز آگئے ہیں۔ اِس عوام دشمن طرزِ حکمرانی سے نجات کے لیے جماعت اسلامی ہی عوام کا واحد قابل اعتماد سیاسی پلیٹ فارم ہے۔ ظلم، نااہلی، کرپشن، بدانتظامی پر مبنی نظام سے نجات کے لیے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، جماعت اسلامی چاورں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بااختیار بلدیاتی نظام لائے گی۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ مردان میں ڈونر کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی لیاقت بلوچ پی ٹی ا ئی ئی حکومت سے نجات کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی