بدنام زمانہ جنسی مجرم ایپسٹین کے گھر پر سابق اسرائیلی وزیراعظم کے متعدد بار آکر ٹھہرنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ذرائع کے مطابق ایپسٹین فائلز پر تحقیقات جیسے جیسے آگے بڑھتی جا رہی ہیں، اسرائیلی اور امریکی عہدیداروں کے ایپسٹین سے گہرے تعلقات بھی منظر عام پر آ رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایپسٹین فائلز پر تحقیقات جیسے جیسے آگے بڑھتی جا رہی ہیں، اسرائیلی اور امریکی عہدیداروں کے ایپسٹین سے گہرے تعلقات بھی منظر عام پر آ رہے ہیں۔ حال ہی میں کئی نئی دستاویزات اور ایپسٹین فائلز کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کی نیویارک میں واقع رہائش گاہ میں سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود بارک (Ehud Barak) اور ان کے قریبی ساتھی باقاعدگی سے آتے جاتے تھے اور یہاں تک کہ ٹھہرا بھی کرتے تھے۔دستاویزات کے مطابق ایپسٹین کی رہائش گاہ پر بارک اور ان کی اہلیہ نے کئی بار قیام کیا ہے اور ان کے نام ایمیلز ریکارڈز میں شامل پائے گئے ہیں۔ ایہود بارک نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ ایپسٹین سے جان پہچان رکھتے تھے اور انہوں نے ایپسٹین کے ساتھ ملاقاتیں کیں مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ کوئی غیر قانونی یا نامناسب پارٹیز میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ کوئی غلط فعل کیا۔ امریکی محکمہ انصاف کی جاری کردہ ایپسٹین فائلز میں اس قسم کی معلومات شامل ہیں جس میں ایپسٹین کے نیٹ ورک میں کچھ سیاسی اور اشرافیہ شخصیات کے نام آئے ہیں۔ فی الحال دستیاب دستاویزات سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ سابق وزیراعظم براہِ راست جنسی جرائم میں ملوث تھے یا انہوں نے ایپسٹین کے جرائم میں حصہ لیا تاہم یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ایپسٹین کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایپسٹین فائلز ایپسٹین کے انہوں نے اور ان
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔