ٹرمپ نے برطانیہ کے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو خطرناک قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو شدید تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے اسے “انتہائی خطرناک” قرار دیا ہے۔ یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا جب برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر بیجنگ میں چین کے سرکاری دورے پر ہیں اور دونوں ممالک تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ کے لیے چین کے ساتھ کاروباری تعلقات میں جانا ممکنہ طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کینیڈا کو بھی چین کے ساتھ اقتصادی معاہدوں میں محتاط رہنے کی تنبیہ کی اور کہا کہ وہاں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ڈاؤننگ اسٹریٹ نے وضاحت دی کہ امریکا کو برطانوی وزیراعظم کے دورۂ چین اور اس کے مقاصد سے پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا، اور یہ بھی بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ خود اپریل میں چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔
سر کیئر اسٹارمر نے چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط اور مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقاتیں مفید رہیں اور برطانیہ نے نمایاں پیش رفت حاصل کی۔ ان کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدوں کا اعلان کیا گیا، جس میں بغیر ویزا سفر، کم ٹیرف اور برطانوی دوا ساز کمپنی ایسٹرا زینیکا کی جانب سے 10.
اس کے علاوہ، برطانیہ اور چین نے منظم جرائم اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، تاکہ دونوں ممالک کی سیکیورٹی اور تجارتی دلچسپیاں بہتر طور پر محفوظ کی جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چین کے ساتھ تعلقات کو
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔