طالبان رجیم میں افغانستان کے صحت کے نظام مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔

طالبان رجیم میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا ہے۔ افغانستان میں صحت کا نظام  درہم برہم ہے جس پر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)   نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی تازہ ترین  رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم میں 1 کروڑ 44 لاکھ افغان شہری بنیادی علاج  کی سہولیات سے محروم ہوئے۔ 2025 میں افغان طالبان رجیم میں 422  سے زائد اسپتال اور کلینکس بند، 30 لاکھ شہری علاج سے محروم ہوئے۔

طالبان رجیم کی پابندیوں اور خواتین ڈاکٹرز کی عدم موجودگی نے افغان خواتین کیلیے علاج تک رسائی ناممکن بنا دی جبکہ طالبان رجیم کی نااہلی نے افغانستان کو پولیو کا عالمی  مرکز بھی بنا دیا۔

افغان طالبان  رجیم میں تقریباً 1 کروڑ 74 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا  شکار رہے۔ افغانستان میں صحت سمیت تمام شعبوں کی تباہ حالی کی بنیادی وجہ افغان طالبان رجیم کی انتہا پسند  پالیساں اور نااہلی  ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کی شدت پسندی اور دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی کے باعث عالمی ادارے اور این جی اوز افغانستان سے اپنا کام روک چکے ہیں۔ افغان رجیم کی لوٹ مار، کرپشن اور وسائل کے ضیاع کے نتیجے میں امریکی فنڈز کی نگرانی کرنے والا واچ ڈاگ سگار بھی مستقل طور پر بند کردیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: طالبان رجیم میں طالبان رجیم کی

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟