سونے کی قیمتوں میں آج بھی بہت بڑی کمی، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
کراچی:
سونے کی قیمتوں میں آج مزید کمی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا ہوگیا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 255ڈالر کی بڑی نوعیت کی کمی کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 895ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی ہے۔
اسی طرح مقامی صرافہ بازاروں میں بھی آج کاروباری ہفتے کے آخری دن 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 25ہزار 500روپے کی بڑی کمی کے نتیجے میں نئی قیمت 5لاکھ 11ہزار 862روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 21ہزار 862روپے گھٹ کر 4لاکھ 38ہزار 839روپے کی سطح پر آگئی۔
مقامی سطح پر چاندی کی فی تولہ قیمت بھی 2063 روپے کی کمی سے 9ہزار 006روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 1768روپے کی کمی سے 7ہزار 721روپے کی سطح پر آگئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ ہوئی تھی جب کہ اس سے قبل مسلسل دو روز سونے اور چاندی کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں تاریخ کا بلند ترین اضافہ ریکارڈ ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی سطح پر آگئی سونے کی قیمت قیمتوں میں چاندی کی
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔