’اب خوش؟‘ لائبہ خان نے شوہر کے ساتھ ہلدی کی تصاویر شیئر کر کے تنقید کا جواب دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
پاکستانی اداکارہ لائبہ خان نے اس ماہ اچانک اپنی شادی کا اعلان کر کے مداحوں کو حیران کر دیا تھا۔ اداکارہ کے مطابق ان کا نکاح نومبر 2024 میں مدینہ منورہ میں ہوا، جس کی خبر انہوں نے 27 جنوری 2026 کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی۔
اپنی شادی کے اعلان کے بعد لائبہ خان نے نکاح فوٹو شوٹ، دعائے خیر، ڈھولکی اور برائیڈل شاور جیسی تقریبات کی جھلکیاں بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کیں۔ ہر تقریب میں اداکارہ دلکش برائیڈل لک میں جلوہ گر ہوئیں، اور قریبی دوست اور اہلِ خانہ بھی خوشیوں میں شامل تھے۔
تاہم ابتدائی طور پر لائبہ خان نے صرف اپنی سولو تصاویر شیئر کیں اور اپنے شوہر کو منظر عام پر نہیں لایا، جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر مداحوں میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ کچھ صارفین نے شادی خفیہ رکھنے پر تنقید کی اور بعض نے بے بنیاد دعوے بھی کیے، جبکہ کئی نے کہا کہ اداکارہ کو اپنی شادی چھپانے کی ضرورت نہیں تھی۔
ان تمام تنقیدوں کے بعد، لائبہ خان نے اب انسٹاگرام پر اپنے شوہر کے ساتھ ہلدی ایونٹ کی تصاویر شیئر کر دی ہیں اور کیپشن میں لکھا:
’’اب خوش؟ براہ مہربانی ماشاءاللہ کہہ دو‘‘۔
یہ اقدام مداحوں اور تنقید کرنے والوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ اداکارہ اپنی خوشیوں کو فخر اور محبت کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لائبہ خان نے کے ساتھ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔