بلوچستان: فورسز کی بروقت کارروائیاں، بی ایل اے کے حملے ناکام، کئی دہشت گرد جہنم واصل
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
بلوچستان: فورسز کی بروقت کارروائیاں، بی ایل اے کے حملے ناکام، کئی دہشت گرد جہنم واصل WhatsAppFacebookTwitter 0 31 January, 2026 سب نیوز
کوئٹہ: (آئی پی ایس) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بی ایل اے سے وابستہ غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کی جانب سے دہشت گردی کی ناقص منصوبہ بندی پر مبنی متعدد کارروائیاں کی گئیں، جنہیں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے تمام مقامات پر فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا، کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور چند گھنٹوں کے اندر صورتحال پر مکمل طور پر قابو پالیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملے فتنہ الہندوستان نامی نیٹ ورک نے کیے، جو بی ایل اے کا غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد دھڑا ہے تاہم فتنہ الہندوستان سے منسلک پروپیگنڈا نیٹ ورکس اور بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کے برعکس یہ حملے کسی قسم کا مؤثر نتیجہ حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے، فورسز نے دہشت گردوں کا ’’ہیروف 2.
متعدد مقامات پر حملے، فورسز کا منظم اور بروقت ردِعمل
کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ میں دہشت گردوں نے پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، پولیس اہلکاروں نے فوری جوابی فائرنگ کی جبکہ فرنٹیئر کور (کے دستوں نے علاقے میں پہنچ کر کارروائی کو مضبوط بنایا، اس دوران چار دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے اور علاقہ مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا۔
نوشکی میں دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کی، تاہم چوکس اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو بغیر کسی نقصان کے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔
دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کے دوران کم از کم دو دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کی، کلیئرنس آپریشن کے دوران صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں رہی۔
قلات میں دہشت گردوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور پولیس لائنز کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی، جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سکیورٹی فورسز نے مؤثر جواب دیتے ہوئے حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچایا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک دیا۔
پسنی میں دہشت گردوں نے پاکستان کوسٹ گارڈز کی تنصیب پر دور سے فائرنگ کی کوشش کی، جبکہ گوادر میں ایک مزدوروں کی کالونی کو نشانہ بنایا گیا، دونوں مقامات پر پولیس اور ایف سی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملوں کو ناکام بنا دیا۔
اسی طرح بلوچہ، تمپ، مستونگ اور خاران میں سکیورٹی پوسٹس پر بیک وقت دستی بم حملے اور دور سے فائرنگ کی گئی، جنہیں سکیورٹی فورسز نے کامیابی سے پسپا کر دیا۔
صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے
سکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان بھر میں مجموعی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، صرف 2 سے 3 سکیورٹی اہلکاروں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں، جبکہ کسی بھی سٹریٹجک تنصیب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
یہ حملے حالیہ انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے بعد کیے گئے، جن میں بلوچستان بھر میں 50 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے، سکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ کارروائیاں دہشت گردوں کی بھاری ناکامیوں کا ازالہ کرنے کی ایک ناکام اور بوکھلاہٹ پر مبنی کوشش تھیں، جو ایک بار پھر بری طرح ناکام ہو گئیں۔
قیادت غیر ملکی پناہ گاہوں میں محفوظ، مقامی نوجوان شکار
خیال رہے کہ تشدد کی ان کارروائیوں کی ذمہ داری براہِ راست بشیر زیب بلوچ، اللہ نذر اور جلا وطن حربیار مری پر عائد کی گئی ہے، جو پاکستان سے باہر، بالخصوص افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے کارروائیاں چلا رہے ہیں، بی ایل اے اور بی ایل اے ایف پاکستانی قانون کے تحت کالعدم تنظیمیں ہیں، جبکہ بی ایل اے کو امریکہ بھی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔
سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بی ایل اے کی قیادت بیرونِ ملک محفوظ زندگی گزار رہی ہے، جبکہ بلوچ نوجوانوں کو خودکش حملوں اور براہِ راست سکیورٹی فورسز پر حملوں جیسے انتہائی خطرناک کاموں میں دھکیلا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان ناکام حملوں، اندرونی اختلافات اور گروہی جھڑپوں میں مارے جانے والوں کو بعد ازاں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک پروپیگنڈا نیٹ ورکس (بی وائی سی اور بی این ایم) کی جانب سے زبردستی لاپتا افراد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے مزدوروں کی بستیوں اور مخلوط آبادی والے علاقوں جیسے نرم شہری اہداف کو نشانہ بنانا ان کے مجرمانہ کردار کو مزید بے نقاب کرتا ہے، جو بلوچ عوام کی نمائندگی کے ان کے دعوؤں کی صریح نفی ہے۔
حکام کے مطابق بڑھا چڑھا کر کیے گئے دعوؤں کے باوجود ہیروف 2.0 کا نتیجہ ناقص منصوبہ بندی، کمزور عملدرآمد اور سکیورٹی فورسز کے پیشہ ورانہ اور تیز ردِعمل کے سامنے مکمل شکست کی صورت میں نکلا، اس مہم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مسلح تشدد بے سود ہے اور بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس مزید تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے تمام شہریوں، بالخصوص کمزور طبقات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
حکام کے مطابق اصل ذمہ داری بی ایل اے اور بی ایل اے ایف کی بیرونِ ملک بیٹھی دہشت گرد قیادت اور ان کے غیر ملکی سرپرستوں پر عائد ہوتی ہے، جن کی وجہ سے بلوچ نوجوانوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جبکہ بلوچستان کے عوام کو نہ کوئی ترقی مل رہی ہے اور نہ ہی ریلیف مل رہا ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس 2 فروری کو طلب کرلیا صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس 2 فروری کو طلب کرلیا آئی سی سی آئی قیادت کا وزیر اعظم کی صنعتی اور برآمدی مراعات کا خیر مقدم جمہوریہ کانگو میں کان کے منہدم ہونے سے 200 سے زائد افراد ہلاک سانحہ بھاٹی گیٹ کے ملزمان عدالت پیش، چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے بانی پی ٹی آئی کی صحت اتنی خراب نہیں جتنا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، محمود اچکزئی عمران خان کی دائیں آنکھ میں بینائی کم ہونے کی شکایت، اسپتال انتظامیہ کا اہم بیان سامنے آگیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بی ایل اے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔