سیکورٹی خدشات , کوئٹہ ڈویژن میں آج ٹرین سروس مکمل طور پر بند
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
سعید احمد:سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر آج کوئٹہ ڈویژن میں ٹرین آپریشن مکمل طور پر بند رہے گا۔
لاہور میں واقع پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹر کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق کوئٹہ ڈویژن کے مختلف روٹس پر چلنے والی تمام ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ کوئٹہ سے سبی، چمن اور زاہدان کے درمیان ٹرین سروس آج معطل رہے گی۔
اسی طرح پشاور سے براستہ لاہور کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کو جیک آباد تک محدود کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی اعلان بعد میں متوقع ہے۔
بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
پاکستان ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ منسوخ کی جانے والی تمام ٹرینوں کے مسافروں کو مکمل ریفنڈ فراہم کیا جائے گا، جبکہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ٹرین آپریشن بحال کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔