کراچی:سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ خیبر ضلع کی وادی تیراہ میں کسی قسم کا باقاعدہ فوجی آپریشن نہیں کیا جا رہا بلکہ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں، جن کا مقصد علاقے میں موجود تمام فتنوں کا مکمل خاتمہ ہے۔

 سکیورٹی حکام نے کراچی میں میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے اس حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا، وادی تیراہ میں دہشت گرد عناصر، فتنہ ہندوستان اور فتنہ خوارج کے درمیان گٹھ جوڑ قائم ہے جو علاقے میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ان عناصر کے خلاف ہدفی کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور ان کارروائیوں کا دائرہ صرف دہشت گردوں تک محدود ہے، عام آبادی یا کسی علاقے کے خلاف کوئی وسیع فوجی آپریشن نہیں ہو رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جدید انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست دشمن عناصر کے لیے کسی قسم کی رعایت یا گنجائش نہیں رکھی جائے گی۔

سکیورٹی حکام نے بتایا کہ پاکستان ڈرون ٹیکنالوجی میں خودانحصاری حاصل کر چکا ہے اور موجودہ علاقائی و عالمی جنگوں کے تناظر میں جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی پر بھی تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گرد عناصر جدید ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے پیش نظر سکیورٹی ادارے اپنی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔

ذرائع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تیراہ میں آپریشن کے حوالے سے سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا۔ ان کے مطابق اس پروپیگنڈے کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور سکیورٹی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنا ہے۔ تاہم دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان گٹھ جوڑ اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ احساسِ محرومی کا نعرہ لگا کر دہشت گردی کرنے والے عناصر کو بلوچستان اور دیگر علاقوں کے عوام اچھی طرح پہچان چکے ہیں اور اب ایسے بیانیے زیادہ دیر تک عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے۔ عوام اور ریاستی ادارے مل کر دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں۔

آخر میں سکیورٹی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں امن و امان کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سکیورٹی ذرائع انٹیلی جنس تیراہ میں کے خلاف

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک