—فائل فوٹو

سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 37 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق رات گئے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے 12 مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جن میں سیکیورٹی اداروں اور پولیس کے 10 جوان شہید ہوئے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تمام حملے ناکام بنا دیے، سیکیورٹی فورسز کا مختلف لوکیشنز پر دہشت گردوں کا تعاقب تاحال جاری ہے۔

بلوچستان، فورسز کی 2 بڑی کارروائیاں، فتنہ الخوارج کے 51 دہشت گرد ہلاک

کراچی/کوئٹہ/کمرمشانی سکیورٹی ذرائع نے واضح کیاہے.

..

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں مزید دہشت گردوں کی ہلاکتیں اور نقصانات کی بھی اطالاعات ہیں۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے حملے ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے بہادر سپوتوں نے بروقت اور مؤثر کارروائی میں 37 دہشت گرد جہنم رسید کیے، دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک ملانے والے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

وفاقی وزیر نے حملے ناکام بناتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے 10 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بہادر سپوتوں نے جان دے کر بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔

انہوں نے کہا کہ قوم کو اپنے بہادر بیٹوں پر ناز ہے، جام شہادت نوش کرنے والے جوان قوم کے ہیرو ہیں، شہداء کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: فتنہ الہندوستان کے سیکیورٹی فورسز کرنے والے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار