ایران و امریکہ کشیدگی کے حوالے سے علامہ سید عابد الحسینی کا تازہ انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: اسلام ٹائمز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوے سابق سنیٹر نے کہا کہ امریکہ اپنے سابقہ تجربات اور شرمندگیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایران پر حملے کی جرات نہیں کرے گا۔ تاہم اگر جنگ چھڑ گئی تو اسے پہلے سے زیادہ شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔ اسلام ٹائمز: علامہ صاحب! ایران کے خلاف امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے عزائم کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
علامہ سید عابد الحسینی: امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے یہ عزائم آج کے نہیں، یہ انقلاب کے ابتدائی ایام ہی سے ہیں۔ انکی خواہش ہے کہ ایران کے اندر انکی ایک کٹھ پتلی حکومت قائم ہو۔ جو انہی کے اشاروں پر ناچے۔ موجودہ ایران کے حوالے سے انہیں جب سب سے بڑا خدشہ ہے، وہ اسرائیل کا وجود ہے۔ انکا خیال ہے، اور یہ درست بھی ہے، کہ موجودہ ایران کا وجود اسرائیل کے وجود کے کاملا منافی ہے۔ اور یہ کہ انہیں آپس میں جمع نہیں کیا جاسکتا۔ ان دونوں میں سے صرف ایک ہی کو باقی رہنا ہے۔ اور انکی نظر میں وہ اسرائیل ہے۔
اسلام ٹائمز: کیا امریکہ اور اسکے اتحادی اپنے مذکورہ عزائم میں کامیابی حاصل کرسکیں گے؟
علامہ سید عابد الحسینی: ایران پر یہ پہلی جارحیت نہیں۔ ایران پر امریکہ نے ڈائریکٹ حملہ اپنے یرغمال سفارتکاروں کی رہائی کے لئے 1980 میں کیا، مگر بری طرح ذلیل ہوکر بھاگ گئے۔ جب ڈائریکٹ حملے میں کامیابی نہ پاسکے تو عراقی صدر صدام کے ذریعے ایران پر حملہ کروایا۔ اور 8 سال تک مسلسل ایران کے خلاف اسکی پشت پناہی کرتے رہے۔ تاکہ اسلامی جمہوریہ کو گراسکے۔ مگر اللہ کی غیبی کمک سے ایران سرخرو رہا۔ اور انقلاب آگے بڑھتا رہا۔ ان ڈائریکٹ حملوں کے بعد گزشتہ سال امریکہ اور اسرائیل نے ڈائریکٹ حملہ کرکے بھی طبع ازمائی کی۔ مگر انہیں خفت آمیز شکست اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ اس مرتبہ میرا خیال نہیں کہ وہ حملہ کرسکے۔ بلکہ خود کو شرمندگی سے بچانے کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرینگے۔
اسلام ٹائمز: بالفرض اگر جنگ چھڑ گئی تو نتیجہ کیا ہوگا؟َ
علامہ سید عابد الحسینی: جنگ تو چھوڑو ایران نے جزوی حملے کی صورت میں بھی بھرپور جنگ لڑنے کی دھمکی دی ہے۔ چنانچہ اگر جنگ چھڑ جاتی ہے، تو واضح سی بات ہے کہ ایران کا بھی بہت سا نقصان ہوجائے گا۔ تاہم امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑے۔ اور ایران فاتح قرار پائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ اکیلے ایران کے مقابلے میں اتنی بڑی اتحاد کی ناکامی دنیا کو کچھ نیا سوچنے پر مائل کرے گی۔ چنانچہ نتیجہ 90 فیصد ایران کے حق میں نکلے گا۔
اسلام ٹائمز: آپکے خیال میں جنگ کے دوران ہمسایہ ممالک کا کردار کیا ہوگا؟
علامہ سید عابد الحسینی: خطے کے ممالک کو امریکہ و اسرائیل نے کچھ اسی تربیت کے ہے۔ جیسے ایک چھوٹا بچہ اپنے بزرگوں کے ساتھ جوان ہوتا ہے۔ اورپھر جوانی کے بعد خوب طاقت پانے کے بعد بھی وہ اپنے بزرگوں کے سامنے بولنے سے ہچکچاتا ہے۔ یہی حالت آج اسلامی ممالک کی ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مقابلہ تو کیا، تکلیف اور نقصان کی صورت میں فریاد سے بھی کتراتے ہیں۔ چنانچہ جنگ کی صورت میں ان سے خیر کی کوئی توقع نہیں۔ وہ صرف لاتعلق رہیں، یہی غنیمت ہے۔
اسلام ٹائمز: سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کی سفارتکاری مہم کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
علامہ سید عابد الحسینی: عالم اسلام خصوصا ایران کے ہمسایہ ریاستوں کا جتنا فرض بنتا ہے وہ نہیں کررہے۔ سعودی عرب کے پیش نظر صرف اقتصادی بحران ہے، اسے پتہ ہے کہ جنگ سے علاقہ بہت متاثر ہوگا۔ لہذا جنگ ٹالنے کے حوالے سے اسکی کاوشیں معاشی مسائل تک ہیں۔ ترکی تو ایک پرلے درجے کا منافق ملک ہے، اسرائیل اور امریکہ سے انکی بہت سی مفادات وابستہ ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، اسکا موقف کسی حد تک ٹھوس ہے۔ تاہم انہیں اطمینان بخش قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ اپنی سالمیت کی خاطر پاکستان کو ایران کا مکمل سپورٹ کرنا چاہئے۔ مگر مکمل سپورٹ سے یہ کترارہا ہے۔ پھر بھی پاکستان نے ایران پر حملے کی مخالفت کی ہے۔
اسلام ٹائمز: موجودہ صورتحال میں چین اور روس خاموش نظر آرہے ہیں۔ کیا وجہ ہے؟
علامہ سید عابد الحسینی: ہر ملک سب سے پہلے اپنے مفادات کو مد نظر رکھتا ہے۔ روس یوکرین جنگ میں تھک چکا ہے۔ وہ ڈائریکٹ دوسرا پنگہ نہیں لیتا، جبکہ چین اقتصادی اور سائنسی لحاظ سے آگے بڑھنے میں مصروف ہے، وہ دوسروں کی جنگ کیا لڑیں گے، جبکہ جنگ اسکی اپنی آنگن میں سلگ رہی ہے۔ تائیوان پر وہ اقدام نہیں کررہا۔ تو ایران کے معاملے میں ڈائریکٹ کودنا چین اور روس سے کسی صورت میں متوقع نہیں۔ ہاں فوجی ساز وسامان وہ دیتا رہا ہے۔ اور دیتا رہے گا۔ جس میں انکی اپنا اقتصادی فائدہ بھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ سید عابد الحسینی امریکہ اور اسکے اسلام ٹائمز ایران کے ایران پر
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔