سندھ حکومت نے کراچی میں اعلانات کا جمعہ بازار لگایا ہوا ہے، منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
کراچی:
امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے کراچی میں اعلانات کا جمعہ بازار لگایا ہوا ہے، جہاں سے کوئی وزیر گزر جائے صرف اعلانات مل رہے ہیں، اتوار کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ میں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
جماعت اسلامی کراچی کے مرکزی دفتر ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کیلئے اربوں روپے کے کاغذی پیکجز کے اعلانات کررہی ہے، مرتضیٰ وہاب، شرجیل میمن، وزیراعلیٰ پیکجز کا اعلان کرتے نہیں تھک رہے، بتایا گیا ہے کہ کے ایم سی 46 ارب روپے کے ترقیاتی کام کریگی، 3 دن پہلے 21 ارب روپے کے ڈیولپمنٹ فنڈ کا نام لیا گیا، وفاقی حکومت کے فنڈز بھی ملالیں تو ایسا لگتا ہے کراچی کے پاس پیسوں کی کوئی کمی نہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ یہ سارے اعلانات صرف دھوکہ اور فراڈ ہیں، اگر کراچی میں پیسہ لگ رہا ہوتا تو شہر کی یہ صورتحال نہ ہوتی، آپ کے سارے اعلانات صرف کاغذی دعوے ہیں۔ 2023 میں شروع ہونے والا کریم آباد انڈر پاس بار بار ڈیڈ لائنز کے باوجود ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا، اسلام آباد میں 72 دن میں تین انڈر پاسز بن رہے ہیں لیکن کریم آباد انڈر پاس کو تیسرا سال مکمل ہونے جارہا ہے، ریڈ لائن منصوبہ انسانی جانوں کیلئے خطرہ بن چکا ہے، ابتک تین افراد اس میں جان سے جاچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ اور مرتضیٰ وہاب کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرکے مستعفی ہوجانا چاہئے۔ سانحہ گل پلازہ کے بعد میئر کو اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرکے مستعفیٰ ہوجانا چاہئے تھا اور آپ کی پارٹی کا ہی کوئی دوسرا آجاتا لیکن آپ یہ کام بھی نہیں کرسکے کیونکہ آپ میں اتنی بھی اخلاقی جرات نہیں۔
انہوں نے کہا کہ دو ہفتے گزرنے کے باوجود گل پلازہ کے شہداء کی باقیات ورثاء کے حوالے نہیں کی گئیں، بتایا یہ گیا ہے کہ 87 افراد اس حادثہ میں جاں بحق ہوئے ہیں لیکن ابھی تک ڈی این اے کے ذریعے 42 افراد کی باقیات لواحقین کے حوالے کی جاسکی ہیں، کل بھی شہر میں جمعہ کے بعد 17 سے 18 جنازہ اٹھائے گئے۔ کراچی اس وقت سب سے زیادہ غیر محفوظ شہر بن چکا ہے، یہاں جان محفوظ ہے نہ مال، حکمران ایک سانحے کے بعد دوسرے سانحے کے منتظر رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے پیپلز پارٹی کی حکومت کی 18 سالہ بد انتظامی، نا اہلی اور کرپشن کو بے نقاب کیا ہے۔ سندھ حکومت کے زیر انتظام چلنے والے سارے محکمے ایسی تصویر پیش کر رہے ہیں کہ شائید انکے پاس کچھ بھی نہیں۔ آگ بجھانے والے ادارے کے پاس آگ سے بچاؤ کا لباس نہیں، ریسکیو 1122 کے پاس بھی آلات موجود نہیں تھے، سول ڈیفنس، پی ڈی ایم اے سب محکمہ تباہ ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ یکم فروری کو حافط نعیم الرحمان کی قیادت میں شاہراہ فیصل پر عظیم الشان جینے دو کراچی مارچ کریں گے۔ ظالم حکمرانوں سے اپنا حق چھیننے کیلئے کراچی کے شہریوں کو اپنے گھروں سے نکلنا ہوگا۔ شاہراہ فیصل پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔ مرتضیٰ وہاب کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے سٹی کونسل میں موجود تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کررہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منعم ظفر خان نے کہا سندھ حکومت نے کہا کہ رہے ہیں کے پاس
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔