لاہور: شیراکوٹ میں 2 کروڑ سے زائد کی ڈکیتی، شہری زخمی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
لاہور کے علاقے شیراکوٹ میں ڈاکوؤں نے شہری سے 2 کروڑ روپے سے زائد رقم چھین لی۔
پولیس کے مطابق اصغر نامی شخص رکشہ میں دو بیگوں میں بھاری رقم لے جا رہا تھا کہ دورانِ سفر دو ڈاکوؤں نے رکشہ روک کر بیگ چھیننے کی کوشش کی۔ مزاحمت کرنے پر ملزمان نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں اصغر شدید زخمی ہو گیا۔
فائرنگ کے بعد دونوں ڈاکو رقم سے بھرے بیگ لے کر فرار ہو گئے، جبکہ زخمی اصغر کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق اصغر 2022 تولے چاندی فروخت کر کے رقم واپس لا رہا تھا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے اور تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔