سونے کی قیمتوں میں بہت بڑی کمی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 255 ڈالر کی بڑی نوعیت کی کمی کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 895 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی۔ اسلام ٹائمز۔ سونے کی قیمتوں میں مزید کمی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی اور پاکستانی مارکیٹوں میں سونا سستا ہوگیا۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 255 ڈالر کی بڑی نوعیت کی کمی کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 895 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی۔ اسی طرح مقامی صرافہ بازاروں میں بھی کاروباری ہفتے کے آخری دن 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 25 ہزار 500 روپے کی بڑی کمی کے نتیجے میں نئی قیمت 5 لاکھ 11 ہزار 862 روپے کی سطح پر آگئی، جبکہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 21 ہزار 862 روپے گھٹ کر 4 لاکھ 38 ہزار 839 روپے کی سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی سطح پر آگئی کے نتیجے میں سونے کی قیمت فی اونس
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔