انسان کتنی عمر پائے گا؟ سائنسدانوں کی تحقیق نے نئی بحث چھیڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سائنسدان طویل عرصے سے اس سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے کہ کچھ افراد طویل زندگی کیوں پاتے ہیں جبکہ کچھ نسبتاً کم عمر میں دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
ماضی میں عام تاثر یہ تھا کہ غذا، ورزش، سماجی تعلقات اور مجموعی طرزِ زندگی انسان کی عمر کا بنیادی تعین کرتے ہیں، مگر اب ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس تصور کو بڑی حد تک بدل کر رکھ دیا ہے۔
عالمی جریدے ’’سائنس‘‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق انسان کی عمر کے تعین میں جینز کا کردار پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ کسی فرد کی زندگی کی مدت میں جینیاتی عوامل کا حصہ تقریباً 55 فیصد تک ہو سکتا ہے، جبکہ باقی 45 فیصد حصہ مختلف غیریقینی عناصر پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں طرزِ زندگی، ماحول اور حادثاتی عوامل شامل ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ لمبی عمر کا راز صرف ایک عنصر پر منحصر نہیں بلکہ یہ کئی پیچیدہ عوامل کا مجموعہ ہوتا ہے، جن میں کولیسٹرول کی سطح، ہڈیوں کی مضبوطی، جسمانی مدافعت اور دیگر اندرونی حیاتیاتی نظام شامل ہیں۔ محققین کے مطابق ماضی کی کئی تحقیقات اس لیے درست نتائج پیش نہ کر سکیں کیونکہ ان میں ان افراد کا ڈیٹا شامل تھا جو انیسویں صدی سے پہلے پیدا ہوئے تھے، جب وبائی امراض، حادثات اور طبی سہولیات کی کمی عام تھی۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ صحت مند طرزِ زندگی جیسے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور مضبوط سماجی تعلقات انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں، مگر یہ جینیاتی حد سے تجاوز نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر اگر کسی فرد کی جینیاتی طور پر متوقع عمر 80 سال ہے تو وہ اچھی عادات کے ذریعے اسے 85 سال تک بڑھا سکتا ہے یا خراب عادات سے اسے 75 سال تک محدود کر سکتا ہے، مگر صرف صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر کے 100 سال تک پہنچنا ممکن نہیں۔
محققین نے واضح کیا کہ اس تحقیق کا مقصد لوگوں کو مایوس کرنا نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ سوچ کو فروغ دینا ہے۔ جینز اہم ضرور ہیں، مگر واحد فیصلہ کن عنصر نہیں، کیونکہ زندگی کے معیار اور صحت مند سالوں میں اضافہ اب بھی انسان کے اپنے انتخاب پر منحصر ہوتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں جینیاتی تحقیق انسانوں کو اپنی صحت کو بہتر طور پر سمجھنے اور بیماریوں سے بچاؤ میں مدد فراہم کر سکتی ہے، مگر عمر کے معاملے میں قدرت کے طے کردہ دائرے کو مکمل طور پر بدلنا ممکن نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔