وفاق کی جانب سے ایف سی ایریا میں ڈیجیٹلائزڈ فیڈرل ڈسپنسری کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ سانحہ گل پلازھ کے پانچ روز تک لاشوں کے باقیات کے ڈی این اے ٹیسٹ نہیں ہو سکے جس کے بعد وفاقی حکومت کو مداخلت کرنا پڑی۔
تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ کمال نے ہر صوبے میں ڈی این اے لیبارٹری قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف سی ایریا میں ڈیجیٹلائزڈ فیڈرل ڈسپنسری کی افتتاحی تقریب کے موقع پر کیا۔
ہیلتھ کیئر ڈیجیٹلائزیشن پروگرام کے تحت وفاقی بنیادی مراکز صحت کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کا عمل جاری ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے ایف سی ایریا میں کراچی کی تیسری ڈیجیٹلائزڈ وفاقی ڈسپنسری کا افتتاح کیا۔ یہ ڈسپنسری صحت کہانی اور وفاقی وزارت صحت کے تعاون سے قائم کی گئی ہے، جو پاکستان میں صحت کہانی کے تحت چھٹی ڈسپنسری ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحت کہانی کی سی ای او سارہ سید خرم نے کہا کہ صحت کہانی ایک ٹیلی میڈیسن ادارہ ہے جسے وفاقی وزیر صحت کے تعاون سے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل کراچی کے ایئرپورٹ اور جیکب لائنز میں بھی ڈسپنسریز کو جدید بنایا جا چکا ہے، جہاں مریضوں کو معائنے کے ساتھ مفت ادویات فراہم کی جارہی ہیں۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوشی کا دن ہے کہ وفاقی وزارت صحت کے ماتحت پرانی ڈسپنسری کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں دس ایسی ڈسپنسریز تیار کی جارہی ہیں، جن میں چھ اسلام آباد اور چار کراچی میں ہوں گی۔
انہوں نے بتایا کہ نِپاہ وائرس کے حوالے سے این آئی ایچ نے چار روز قبل الرٹ جاری کیا ہے اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، تاہم الحمدللہ پاکستان تاحال نِپاہ وائرس سے محفوظ ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ بڑے حادثات، ٹرانسپلانٹس اور پیچیدہ آپریشنز بڑے اسپتالوں میں ہوتے ہیں، لیکن 70 سے 80 فیصد صحت کی ضروریات بنیادی اور سیکنڈری مراکز سے پوری کی جاسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگلے سانحات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ حادثات کی فائنڈنگز کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کیے جائیں، نہ کہ ایک حادثے کے بعد دوسرے کا انتظار کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر صحت صحت کہانی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔