سندھ میں بدنام زمانہ تین کچے کے ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
کراچی:
سندھ پولیس کا کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن جاری ہے، سندھ حکومت کی سرینڈرپالیسی کے تحت مزید تین ملزمان نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔
سکھرکے علاقے بیلو باگرجی سے تعلق رکھنے والے بدنام زمانہ ڈاکوؤں قلندر بخش جتوئی، بشیرجتوئی اور شفیق جتوئی نے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، ملزمان سنگین نوعیت کے مختلف مقدمات میں مطلوب تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سندھ، پنجاب فورسز کے کچے میں آپریشن کے دوران 8 ڈاکو ہلاک اور 15 زخمی ہوئے تھے۔ سرحدی کچہ میں جاری آپریشن نے ڈاکوؤں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جس کے باعث ڈاکو خوفزدہ ہو کر سرنڈر کررہے ہیں۔
ایک روز قبل بھی شر، لوند ، انڈھڑ، کوش گینگ و دیگر جرائم پیشہ گینگسٹرز سمیت ڈاکو گروپ کے 180 سے زائد ڈاکوئوں نے ہتھیار ڈالے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔