data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وسطی چین کے صوبہ ہونان میں تعلق رکھنے والا 8 سالہ بچہ لیو چوشی نومبر 2025 میں ایک شدید ٹریفک حادثے کے بعد کوما میں چلا گیا، جس میں اس کے دماغ کو ناقابلِ یقین حد تک نقصان پہنچا اور پھیپھڑوں کو بھی شدید چوٹیں آئیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹروں نے ابتدائی طور پر خبردار کیا تھا کہ بچے کے ہوش میں آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، لیکن والدہ نے ہمت نہ ہاری اور اپنے بیٹے کو متعدد اسپتالوں میں لے کر جا کر علاج کرانے کی کوششیں جاری رکھیں۔

ڈاکٹرز نے والدہ کو مشورہ دیا کہ جانی پہچانی آوازیں یا بچے کی پسندیدہ موسیقی دماغ کے مخصوص حصوں کو متحرک کر سکتی ہیں اور ممکن ہے کہ وہ ہوش میں آ جائے۔ اس رہنمائی کے مطابق لیو کی والدہ نے اسکول میں چلنے والی موسیقی اور آوازیں جمع کیں اور روزانہ انہیں بیٹے کے بستر کے کنارے بجایا۔

اسی دوران لیو کے استاد نے اس کے اسکول کے دوستوں کو اکٹھا کیا اور مختصر مگر جذباتی ویڈیو پیغامات ریکارڈ کروائے۔ ایک ویڈیو میں ایک ساتھی کہہ رہا تھا کہ چوشی جلد بیدار ہو جاؤ، ہمیں اکٹھے فٹبال کھیلنا ہے، جبکہ ایک بچی نے کہا کہ ہم سب تمہیں بہت یاد کرتے ہیں، اگر ہماری آواز سن رہے ہو تو براہِ کرم آنکھیں کھول دو۔

یہ ویڈیوز مسلسل چلائی جاتی رہیں اور کوما میں جانے کے 45 دن بعد لیو کی پلکوں میں حرکت دیکھی گئی۔ کچھ دن بعد، اس نے اپنے استاد کی آواز سن کر پہلی بار مسکرایا، اور 55 ویں دن وہ مکمل طور پر ہوش میں آگیا اور بائیں ہاتھ کو حرکت دینے میں کامیاب ہوا۔

اس کے استاد اور اسکول کے دوستوں نے بعد میں اسپتال کا دورہ کیا اور لیو کو تحائف پیش کیے۔ لیو کی والدہ نے اس لمحے کو زندگی بدل دینے والا قرار دیا اور کہا کہ جیسے سورج بادلوں کے پیچھے سے نمودار ہوا، ویسے ہی ان کے بیٹے پر ایک کرشمہ نازل ہوا۔

اب لیو کی حالت مستحکم ہے اور وہ تیزی سے صحتیاب ہو رہا ہے، جس نے نہ صرف اس کے خاندان بلکہ اسکول کے تمام ساتھیوں اور ڈاکٹروں کو بھی حیرت اور خوشی میں مبتلا کر دیا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسکول کے لیو کی

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق