امن پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، شہداکے لواحقین سے وعدہ ہے خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے: وزیراعلی بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
امن پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، شہداکے لواحقین سے وعدہ ہے خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے: وزیراعلی بلوچستان WhatsAppFacebookTwitter 0 31 January, 2026 سب نیوز
کوئٹہ(آئی پی ایس )وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہیکہ بلوچستان میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، شہدا کے لواحقین سے وعدہ ہے کہ خون کے ایک ایک قطریکا حساب لیا جائیگا۔ وزیراعلی بلوچستان نے کوئٹہ میں بم دھماکیکے مقام کا دورہ کیا اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ وزیراعلی نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے فوری اور مثر ردعمل پر بہادر جوانوں کو شاباش دی اور کہا کہ دہشت گرد عناصرکے خلاف بروقت رسپانس قابل ستائش ہے، ریاست دشمن عناصر کوکسی صورت معاف نہیں کیا جائیگا، بلوچستان میں امن پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعلی بلوچستان کا کہنا تھا کہ صبح فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے مختلف علاقوں میں حملوں کی کوشش کی، بلوچستان پولیس اور ایف سی کے جوانوں نے دہشت گردوں کے تمام حملے ناکام بنادیے، ریاست آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی، 12 ماہ میں بلوچستان میں 700 سے زائد دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا گیا، دو روز میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 70 دہشت گرد مارے گئے۔بعد ازاں سرفراز بگٹی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ شہدا کے لواحقین سے ملاقات کی، اس موقع پر وہ آبدیدہ ہوگئے۔سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ہمارے شہدا کی قربانیاں کسی صورت رائیگاں نہیں جائیں گی، شہدا کی یہ عظیم قربانی ہے، شہدا کے لواحقین سے وعدہ ہے کہ خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائیگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھاری امریکی ٹیرف اور چاہ بہار منصوبے سے دستبرداری مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہے، برطانوی اخبار بھاری امریکی ٹیرف اور چاہ بہار منصوبے سے دستبرداری مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہے، برطانوی اخبار مہنگائی کے ستائے عوام کیلیے بری خبر، ایل پی جی گیس مہنگی کر دی گئی ایرانی آرمی چیف نے امریکا اور اسرائیل کو حملے سے خبردار کر دیا طالبان کی پالیسیوں نے تقریبا ڈیڑھ کروڑ افغان شہریوں کو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم کردیا بحریہ ٹا ئون کے ملک ریاض پاکستان میں مقدمات سے پریشان ، صحت بگڑنے لگی پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی تاریخ کا انوکھا کارنامہ، پہلی بار تمام 10 وکٹیں اسپنرز کے نامCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے لواحقین سے وعدہ ہے وزیراعلی بلوچستان سمجھوتہ نہیں ہوگا کا حساب خون کے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔