سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر دہشگردوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بلوچستان میں کالعدم تنظیموں سے وابستہ مسلح عناصر کے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن دہشتگردی اور دہشتگردوں کے لیے کسی قسم کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، اس ناسور کے خلاف متحد ہونا ناگزیر ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ان کی آڈیو کو بلاوجہ متنازع بنا دیا گیا ہے، حالانکہ اس میں کوئی قابلِ اعتراض بات موجود نہیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: سیکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملے ناکام بنا دیے، 108 ہلاک، 10 جوان شہید
ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ انہوں نے سہیل آفریدی پر الزام عائد کیا، تاہم پارٹی کی وضاحت کے بعد یہ پروپیگنڈا ناکام ہو گیا۔
انہوں نے واضح کیاکہ سہیل آفریدی کو پارٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے کیونکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ہی انہیں وزیرِ اعلیٰ مقرر کیا تھا۔
شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ پارٹی کے اندر کسی معاملے پر گفتگو نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر مختلف گروپس میں باہمی تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے۔
ان کے مطابق اگر کوئی بات واقعی غلط ہوتی تو وہ کھلے عام سامنے لاتے، جبکہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے آڈیو کے حوالے سے دی گئی وضاحت درست ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق بات کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہاکہ پی ٹی آئی پمز اسپتال کی کسی رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتی اور ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا علاج شوکت خانم اسپتال میں کروایا جائے اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں جب نواز شریف بیمار تھے تو بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سیاسی اختلافات ایک طرف رکھتے ہوئے انسانی ہمدردی کو ترجیح دینے کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ کسی کی جان پر سیاست نہیں کی جائے گی۔
شیخ وقاص اکرم نے کہاکہ عوام کے جذبات سے نہیں کھیلنا چاہیے اور یہی مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا علاج شوکت خانم میں ہو۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ذاتی معالج انہیں دیکھ لیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ پہلے بھی ملاقاتیں کروائی جاتی رہی ہیں، لیکن اب جیل مینول اور قانون کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
محمود خان اچکزئی کے اس بیان پر کہ بیماری کی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ وہ ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں اور ممکن ہے ان کے پاس ایسی معلومات ہوں جو پارٹی کے پاس موجود نہ ہوں۔
انہوں نے کہاکہ جب تک اہلِ خانہ اور ڈاکٹر عاصم کی ملاقات نہیں ہوتی، ووٹر مطمئن نہیں ہو گا، اور یہ بھی کہا کہ محمود اچکزئی خود بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ڈاکٹر عاصم کے پاس لے جائیں۔
چیف جسٹس سے سلمان اکرم راجہ کی ملاقات کے حوالے سے سوال پر شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ اس ملاقات کے کوئی نمایاں نتائج سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس ملاقات کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اہلِ خانہ یا رہنماؤں کی ملاقات ممکن ہو سکی؟
بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ پارٹی نے اس معاملے پر اجلاس طلب کیا ہے، دہشتگردی کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے اور دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی ملاقات، دہشتگردی کے خلاف قومی ہم آہنگی پر زور
انہوں نے کہا کہ حکومت واضح کرے کہ امن و امان کے قیام کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور دہشتگردی کے خلاف اس کی حکمت عملی کیا ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا ناگزیر ہے، کیونکہ ریاستِ پاکستان کی سلامتی ہر چیز پر مقدم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews دہشتگرد دہشتگردی سیاسی اختلافات شیخ وقاص اکرم وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہشتگرد دہشتگردی سیاسی اختلافات شیخ وقاص اکرم وی نیوز بانی پی ٹی آئی عمران خان شیخ وقاص اکرم نے کہا سیاسی اختلافات کی ملاقات کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے کہ پارٹی نہیں ہو کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔