منعم ظفر خان کا سندھ حکومت پر تنقیدی نشانہ: کراچی کے اربوں روپے کے اعلانات صرف کاغذی دعوے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے کراچی میں ایک “اعلانات کا جمعہ بازار” لگایا ہوا ہے، جہاں سے شہر کے حالات بدلنے کی بجائے صرف کاغذی پیکجز اور دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر مرتضیٰ وہاب، شرجیل میمن اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ مسلسل اربوں روپے کے ترقیاتی پیکجز کے اعلان کر رہے ہیں، لیکن عملی طور پر شہر کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو رہی ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبے محض دھوکہ اور فراڈ ہیں۔ مثال کے طور پر 2023 میں شروع ہونے والا کریم آباد انڈر پاس آج تک مکمل نہیں ہوا، جبکہ اسلام آباد میں 72 دن میں تین انڈر پاسز بن چکے ہیں۔ ریڈ لائن منصوبہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے اور اب تک تین افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ اور مرتضیٰ وہاب کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفیٰ ہو جانا چاہیے۔ سانحہ گل پلازہ کے بعد میئر کو بھی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے استعفیٰ دینا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ دو ہفتے گزرنے کے باوجود گل پلازہ کے شہداء کی باقیات ورثاء کے حوالے نہیں کی گئیں۔ 87 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کے باوجود صرف 42 افراد کی باقیات ڈی این اے کے ذریعے لواحقین کے حوالے ہو سکیں۔
منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے پیپلز پارٹی کی 18 سالہ نااہلی، بدانتظامی اور کرپشن کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سندھ کے محکمہ فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور پی ڈی ایم اے سمیت تمام ادارے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں اور شہر کی حفاظت کے لیے تیار نہیں ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ یکم فروری کو حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں شاہراہ فیصل پر عظیم الشان “جینے دو کراچی مارچ” منعقد کیا جائے گا، جس میں شہریوں کو اپنے حقوق کے لیے باہر نکلنے کی ضرورت ہوگی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کرے گی۔
منعم ظفر خان نے بتایا کہ سٹی کونسل میں موجود تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ مرتضیٰ وہاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے حمایت حاصل کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا