حکومت سے اتحاد وقت کی ضرورت، پیپلزپارٹی نے سیاست پر ریاست کو ترجیح دی: راجا پرویز اشرف
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما و سابق اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت سے اتحاد وقت کی اہم ضرورت تھا، کیونکہ پارٹی نے سیاست کے بجائے ریاست کے مفاد کو ترجیح دی، اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان چھوٹی موٹی شکایات ہوتی رہتی ہیں، تاہم مجموعی طور پر یہ فیصلہ ملک کے مفاد میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کا حکومتی اتحاد میں رہنا ملکی مفاد میں ہے، راجا پرویز اشرف نے اختلافات کی خبریں رد کردیں
لاہور میں ماڈل ٹاؤن پیپلز پارٹی کے آفس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راجا پرویز اشرف نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد کا حصہ ہے اور اسے مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کراچی کے گل پلازہ واقعے اور دیگر حادثات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ناقابل قبول ہیں، جبکہ مین ہول میں گرنے والی ماں اور بیٹی کے واقعے پر فوری کارروائی ہونی چاہیے۔
https://x.
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں دوبارہ منظم اور مضبوط ہو رہی ہے اور آنے والے وقت میں پارٹی اہم اور کلیدی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی شدت پسندی کے بجائے شدت سے کام کرنے پر یقین رکھتی ہے، جبکہ لاہور کی نئی تنظیم پورے پنجاب میں سیاسی تبدیلی کا سبب بنے گی۔
راجا پرویز اشرف نے کہا کہ 18ویں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی اور پارلیمنٹ کی اکثریت سے کسی بھی آئینی ترمیم کی منظوری ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راجا پرویز اشرف کی قومی اسمبلی میں گھن گرج، پی ٹی آئی ارکان کو ذہنی مریضوں کا ٹولہ قرار دے دیا
انہوں نے بسنت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوبصورت تہوار ہے، لوگوں کو خوشیاں دینا ضروری ہے، تاہم شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کی غفلت ثابت ہو، انہیں سزا ملنی چاہیے، جبکہ بسنت کے لیے حکومت کی جانب سے جاری حفاظتی ہدایات ایک مثبت قدم ہیں۔
تقریب میں پیپلز پارٹی کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ، سیکریٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ، احسن رضوی، راؤ بابر جمیل اور ذیشان شامی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر، مجید غوری، چودھری ریاض، عامر نصیر بٹ سمیت دیگر رہنماؤں نے معزز مہمان کا استقبال کیا، جبکہ کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سید حسن مرتضیٰ نے خطاب میں کہا کہ اگر پارٹی لاہور میں مضبوط ہوگی تو اس کا اثر دیگر شہروں میں بھی نظر آئے گا اور اب تنظیمی اختلافات سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ فیصل میر نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کی جانب سے دی گئی ذمہ داری پر وہ شکر گزار ہیں اور کشمیر بنے گا پاکستان ریلی پیپلز پارٹی کا ایک بڑا پاور شو ثابت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ہم اپنے آرمی چیف اور چیف جسٹس کے پیچھے کھڑے ہیں، راجا پرویز اشرف
شہزاد سعید چیمہ نے کہا کہ آج جوہر ٹاؤن میں لگنے والے نعرے جلد پورے لاہور میں گونجیں گے، ڈاکٹر عائشہ شوکت نے اس موقع پرکہ آئندہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنے گی، جبکہ مجید غوری نے کہا کہ اگر 6 ماہ کا وقت دیا جائے تو مینار پاکستان بھر کر دکھایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد راجا پرویز اشرف ریاست لاہور
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد راجا پرویز اشرف ریاست لاہور راجا پرویز اشرف نے پیپلز پارٹی نے کہا کہ
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔