ایران کا دفاع پاکستان کا دفاع، اسد اللہ بھٹو رہنماء جماعت اسلامی کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ایران پر ممکنہ امریکی حملہ کیوں؟ ایران عالم اسلام کا نمائندہ ملک کیوں؟ خطے میں اسلامی تحریکوں کا ردعمل کیا ہوگا؟ ایران کے عرب ممالک سے بڑھتے ہوئے تعلقات کے اثرات؟ ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے تناظر میں عرب ممالک کا ردعمل؟ کیا پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے؟ کیا ایران کے خلاف امریکا کامیاب ہو پائے گا؟ کیا ایران کے ساتھ ساتھ ایٹمی پاکستان بھی خطرے میں ہے؟ کیوں ایران کا دفاع پاکستان کا دفاع ہے؟ سمیت دیگر متعلقہ و اہم سوالات کے جوابات جاننے کیلئے جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما و ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر جناب اسداللہ بھٹو کا خصوصی ویڈیو انٹرویو ضرور سنیئے اور احباب و اقارب کیساتھ بھی شیئر کیجیئے۔ متعلقہ فائیلیںجماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنماء اسد اللہ بھٹو کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ وہ ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر بھی ہیں، پاکستان خصوصاََ کراچی و سندھ بھر میں انکی اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے کوششوں کو ہر حلقے میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ وہ جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر و سندھ کے امیر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ "اسلام ٹائمز" نے جناب اسد اللہ بھٹو کیساتھ اسلامی جمہوریہ ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے تناظر میں مسجد قباء کراچی میں قائم جماعت اسلامی سندھ کے آفس میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان سے لیا گیا خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ایران کے کا دفاع سندھ کے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔