بلوچستان میں دہشتگردوں کے حملے ناکام، 2 روز میں 3 خودکش بمباروں سمیت 133 دہشتگرد ہلاک، 15 جوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملے ناکام بناتے ہوئے 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ 2 روز میں مجموعی طور پر 133 دہشتگرد مارے گئے، اس دوران سیکیورٹی فورسز کے 15 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے گردونواح میں متعدد دہشتگرد کارروائیاں کرکے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: سی ٹی ڈی کی مستونگ میں کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک
بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی آقاؤں کی ہدایت پر کی جانے والی ان بزدلانہ دہشتگرد کارروائیوں کا مقصد مقامی آبادی کی زندگی کو مفلوج کرنا اور بلوچستان کی ترقی کو نقصان پہنچانا تھا۔
ان حملوں کے دوران ضلع گوادر اور خاران میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں دہشتگردوں نے بدنیتی سے 18 معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور مزدور شامل تھے، جو جامِ شہادت نوش کرگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر الرٹ تھے اور انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔
بہادر افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان بھر میں طویل، شدید اور جرات مندانہ کلیئرنس آپریشن کے دوران 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کلیئرنس آپریشنز اور شدید جھڑپوں کے دوران وطن کے 15 بہادر سپوتوں نے جرات و بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
بیان کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز مسلسل جاری ہیں اور ان انسانیت سوز و بزدلانہ کارروائیوں میں ملوث منصوبہ سازوں، سہولت کاروں، معاونین اور حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ انٹیلی جنس رپورٹس نے واضح طور پر تصدیق کی ہے کہ یہ حملے پاکستان سے باہر سرگرم دہشتگرد عناصر نے منصوبہ بندی کے تحت کروائے، جو پورے واقعے کے دوران دہشتگردوں سے براہِ راست رابطے میں تھے۔
واضح رہے کہ 30 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 41 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ گزشتہ 2 دنوں کے دوران کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں بلوچستان میں جاری آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی ملاقات، دہشتگردی کے خلاف قومی ہم آہنگی پر زور
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز ’عزم استحکام‘ کے تحت غیرملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان بھرپور جواب پاک فوج دہشتگرد ہلاک دہشتگردی سیکیورٹی فورسز وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر بلوچستان بھرپور جواب پاک فوج دہشتگرد ہلاک دہشتگردی سیکیورٹی فورسز وی نیوز سیکیورٹی فورسز ا ئی ایس پی ا ر کے دوران کے مطابق
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔