Daily Pakistan:
2026-06-02@22:26:59 GMT
حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کرتے ہوئے ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 268 روپے 38 پیسے فی لیٹرمقرر کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 253 روپے 17 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم فروری سے ہوگا۔
سانحہ داتا دربار، متاثرہ خاندان سے سادہ کاغذ پر انگوٹھے کس نے اور کیوں لگوائے؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پیسے فی لیٹر کی قیمت ڈیزل کی
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔