کراچی، کرایے کے مکان یا فلیٹ میں رہائش ناممکن ہونے لگی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
فائل فوٹو
کراچی میں گھر خریدنے کا خواب سالوں پہلے چور ہوچکا اور اب کرایے کے مکان یا فلیٹس میں رہائش بھی ناممکن ہو رہی ہے۔
متوسط طبقہ بچوں کی فیس بھرے، بجلی کے بھاری بل یا کچھ جمع کرے کہ گھر خرید ممکن ہو، مہنگائی کے وبال نے بمشکل فیس، راشن اور بجلی بل بھرنے کے قابل چھوڑا ہے۔
لہٰذا متوسط طبقے کو مکان خرید نے کا خواب ہی نہیں آتا، اب الارمنگ صورتحال یہ کہ کرایے کا مکان بھی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
کراچی میں رہائشی پلاٹوں پر پورشن کی تعمیر نے شہر کی تعمیراتی منصوبہ بندی کا نقشہ بگاڑدیا ہے۔
ملاحظہ ہو گارڈن کے چھوٹے فلیٹس کے کرایے، گلستان جوہر میں 120 گز کے گھر کے پورشن کا کرایہ پورے 50 ہزار، اسکیم 33میں کرایہ بہت اوپر، حتی کے ٹوٹے پھوٹے پہلوان گوٹھ پر پی ایچ اے فلیٹس کا کرایہ 60 ہزار روپے ہے۔
کراچی میں ایک سے ڈیرھ سال کے عرصے میں کرایے بہت تیزی سے بڑھے ہیں، گلستان جوہر میں صرف 1 کمرے کا فلیٹ 13 سے 15 ہزار میں دستیاب ہے۔
کراچی کی خستہ حال سڑکوں پر سفر کرتے شہریوں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے سوال کیا ’کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں‘ ۔
فلیٹس کی مینٹیننس اسکیم 33 جناح ایونیو پر 22 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ درمیانے فلیٹ کا کرایہ 70 ہزار روپے ہے، یعنی شہر سے دور اسکیم 33 میں 3 کمرے میں رہائش کی جائے تو ماہانہ تقریبا 1 لاکھ روپے کرایے، مینٹیننس اور بجلی کی مد میں دینا ہوں گے، اسکے ساتھ گھریلو اخراجات لگا کر دیکھیں تو 2 لاکھ کمانے والا شخص بمشکل ہی گذر بسر کے قابل رہا ہے۔
بلڈرز سمجھتے ہیں کہ دہائیوں پہلے تیسر ٹاؤن اور ایل ڈی اے کا بے اسکیم آباد نہ ہونے اور قبضہ و رشوت ستانی کے سبب سالانہ مکانوں کی سپلائی بہت کم لیکن طلب زیادہ ہے۔
اب وہ لوگ جو مکان خریداری کے قابل نہ رہے لیکن جوائنٹ فیملی میں رہنا نہیں چاہتے تو کرایے پر جانا مجبوری بن گیا، یوں کرایے تیزی سے بڑھنا شروع ہو گئے، اگر کنٹرول نہ ہوا تو یہ معاملہ ایک بڑا معاشرتی چیلنج بن جائے گا۔
ماہرین کے مطابق آسان قرض، لینڈ ریکارڈ میں بہتری، پرانی سرکاری رہائشی اسکیموں میں پانی بجلی گیس اور روڈ تعمیر کےذریعے سے ہی مکان اور کرایے کی قیمتیں متوسط طبقے کی پہنچ میں لانا ممکن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔