Express News:
2026-07-24@03:57:12 GMT

بلوچستان میں دہشت گردوں کی کارروائیاں

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے متعدد حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں، سیکیورٹی فورسز کی اگلے روز کی کارروائیوں کے دوران 67 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جب کہ دو روز میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد 108 سے زائد ہو چکی ہے، دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں اور پولیس کے 10 جوان عوام کی حفاظت کے لیے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ہیں۔

بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے 12 مقامات پر حملے ناکام بناتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کر کے دہشت گردوں کو زبردست نقصان پہنچایا ہے، دہشت گردوں نے بے گناہ لوگوں کو بھی نشانہ بنایا ہے اور اطلاعات کے مطابق پانچ چھ مزدور بھی شہید ہوئے ہیں۔

میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق اگلے روز کی رات فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں یہ تمام حملے ناکام بنا دیے گئے۔

ہفتے کے روز بھی مختلف لوکیشنز پر دہشت گردوں کا تعاقب اور انگیجمنٹ کا سلسلہ تاحال جاری رہا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں مزید دہشت گردوں کی ہلاکتیں اور نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں۔

ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوران ہندوستانی میڈیا اور سوشل میڈیا کی فتنۃ الہندوستان کی مکمل سپورٹ دونوں کے گٹھ جوڑ کو مزید واضح کرتی ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان میں امن کو درپیش خطرات کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔

انھوں نے فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کی جانب سے متعدد مقامات پر کی گئی دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے پر افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان جیسے دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائیاں ریاست کے غیر متزلزل عزم کی عکاس ہیں۔ عزمِ استحکام کے تحت جاری کارروائیاں پاکستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے تک جاری رہیں گی۔

ہلاک ہونے والے بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں سے بڑی مقدار میں ایمونیشن اور بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بیسیوں بم اور اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد قبضے میں لے کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مکمل تباہ کردیا ہے۔

پنجگور اور ہرنائی میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا کر دیا گیا ہے۔ ادھر کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے میانوالی کے قریب کارروائی کے دوران6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی کو اطلاع ملی کہ چاپڑی ڈیم کے قریب دہشت گرد موجود ہیں جو پولیس اور دیگر اداروں پر حملے کی منصوبہ بندی مکمل کر چکے ہیں۔

کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کردی، سی ٹی ڈی کی جوابی فائرنگ سے6 دہشت مارے گئے جب کہ8 فرار ہوگئے۔ان کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، ایک خود کش جیکٹ ،6 ایس ایم جی، 3 دستی بم اور200گولیاں بھی برآمد ہوئیں ۔

مارے گئے دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جب کہ فرار ہونے والوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردوں کی وارداتیں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ پاکستان کے دو صوبوں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کی کارروائیاں زیادہ ہو رہی ہیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا مسلسل تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بلوچستان میں جس انداز میں دہشت گردوں نے کارروائیاں کی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ان کے سہولت کار تاحال موجود ہیں۔ افغانستان کی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔

پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کو روکنے اور اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے بھی بہت سے گروہ کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ کبھی انسانی حقوق کی آڑ میں کام کرتے ہیں اور کبھی سیاسی بحران پیدا کر کے حالات کا رخ موڑنا چاہتے ہیں۔

بلوچستان میں ہونے والی حالیہ کارروائی کی ٹائمنگ بھی بڑی اہم ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ادھر افغانستان کی طالبان رجیم بھی اپنے ملک میں ایسی کارروائیاں اور قوانین بنا رہی ہے جس سے ان ملکوں میں جبر واستبداد بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔

فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج پاکستان کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے ایک ہو چکے ہیں۔ اسی طرح جرائم پیشہ مافیا اور اسمگلروں کا گروہ اور بلیک مارکیٹر بھی ان گروہوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ یوں پاکستان کے خلاف ایسی قوتوں کا اتحاد ہوتا نظر آ رہا ہے جو پاکستان کی ریاست اور اس کے نظام کو انتشار کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کام میں انھیں بھارت اور افغانستان کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔

افغانستان کے حوالے سے تو وسط ایشیائی ممالک بھی پریشان ہیں۔ تاجکستان واضح طور پر افغانستان کو وارننگ دے چکا ہے۔ افغانستان سے دہشت گرد تاجکستان میں کارروائیاں کر چکے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کی شمال مغربی سرحدی پٹی شدید خطرات کا شکار ہے۔

دہشت گرد گروہوں کے خلاف جیسے جیسے گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے ان کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں بارہ مقامات پر بیک وقت دہشت گردوں کی کارروائیوں سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ فتنۃ الہندوستان بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس صوبے میں اربوں ڈالر کی معدنیات موجود ہیں اور یہاں کئی ممالک کی کمپنیاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کے ماسٹرمائنڈز اور ان کے فنانسرز چاہتے ہیں کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہو تاکہ یہاں غیرملکی سرمایہ کاری کا راستہ روکا جا سکے۔ بھارت کی حکومت بھی اس وقت شدید دباؤ میں ہے۔

برطانیہ کے وزیراعظم چین پہنچ چکے ہیں جب کہ بھارت نے یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا ہے۔ بھارت وسط ایشیا کی منڈیاں تقریباً کھو چکا ہے کیونکہ چاہ بہار کی بندرگاہ اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ اسی طرح افغانستان کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو چکی ہیں۔ افغانستان شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔

وہاں خوراک کا بحران بہت بری طرح عوام کو لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ پاک افغان سرحد بند ہونے کی وجہ سے بھی اس پر معاشی دباؤ بڑھا ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت کا خیال تھا کہ وہ اپنی ضروریات انڈیا کے ذریعے پوری کر سکتے ہیں لیکن چاہ بہار بندرگاہ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے کے بعد صورت حال بہت زیادہ بدل گئی ہے۔

افغانستان کے لیے یہ بندرگاہ استعمال کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔ ایسی صورت میں بھارت اور افغانستان پاکستان کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

پاکستان کے دو صوبوں میں دہشت گردی مسلسل جاری ہے۔ بلوچستان کی حکومت دہشت گردوں کے خلاف مکمل طور پر جنگ لڑ رہی ہے اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ پولیس فورس قربانیاں دے رہی ہے لیکن خیبرپختونخوا کی صورت حال مختلف ہے۔

خیبرپختونخوا کی حکومت اپنے صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف نہ تو خود کارروائی کر رہی ہے اور نہ ہی وفاق کو ایسا کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ خیبرپختونخوا کی حکومت واضح طور پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔

تیراہ کی مثال سب کے سامنے ہے۔ یہ صورت حال دہشت گردوں کے لیے سازگار تو ہو سکتی ہے لیکن صوبے کی عوام کے حق میں ہرگز نہیں ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومتوں کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنے کی ضرورت ہے۔

بلوچستان کی حکومت اس سلسلے میں پوری طرح متحرک نظر آتی ہے اور یہاں سیکیورٹی فورسز بھی بڑی سرعت کے ساتھ کارروائیاں کر رہی ہیں۔ بلوچستان میں 12 مقامات پر دہشت گردوں نے حملہ کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ جہاں چاہیں کارروائی کر سکتے ہیں لیکن انھیں منہ کی کھانا پڑی ہے۔

بھارت کا میڈیا بھی جس انداز میں دہشت گردوں کی حمایت میں سامنے آیا ہے اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ان دہشت گردوں کو بھارتی حکومت کی بھی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور انھوں نے دہشت گردوں کی کارروائیوں کو ناکام کر کے اور دہشت گردوں کو واصل جہنم کر کے ثابت کیا ہے کہ دہشت گرد خواہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہو جائیں، وہ پاکستان کی سلامتی اور عوام کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف میں دہشت گردوں کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو افغانستان کی بلوچستان میں پاکستان میں گردوں کی کا پاکستان کی مقامات پر کی حکومت کے ساتھ کا شکار چکے ہیں کر رہی گیا ہے ہے اور رہی ہے کے لیے اور اس

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار