سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کی حوالگی کا سلسلہ جاری ہے، ایدھی ہوم سہراب گوٹھ سے گزشتہ روز 27 افراد کی لاشیں اہل خانہ کے حوالے کی گئیں۔ جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ نے سہراب گوٹھ ایدھی سردخانہ میں پراسیس مکمل کرنے کے بعد لاشیں وصول کیں، 27 افراد میں 4 خواتین کی لاشیں بھی شامل تھیں۔

مزید پڑھیں: گل پلازہ سانحے کے پیچھے قبضہ مافیا ہوسکتی ہے، فیصل ایدھی نے خدشات کا اظہار کردیا

کمشنر کراچی سید حسن نقوی کے مطابق اب تک سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے 79 افراد میں سے 69 افراد کی میتیں ورثا کے حوالے کردی گئی، رہ جانے والی 10 میتوں میں سے 3 کا ڈی این اے کیا جا رہا ہے جبکہ 7 افراد کے ورثا کی تلاش جاری ہے۔

انچارج شناخت ڈیسک سی پی ایل سی عامر حسن کے مطابق شناخت اینٹی موٹم ڈیٹا (جاں بحق افراد کی گل پلازہ میں موجودگی) پروف آف پریزنس اورموبائل فون لوکیشن کی مدد سے کی گئی ہے۔

’نارتھ ناظم آباد سے شاپنگ کے لیے آنے والی فیملی کے 3 افراد بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں، اینٹی موٹم ڈیٹا سے عمر نبیل، ان کی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ اور بیٹے علی کی باقیات کی شناخت کی گئی۔‘

انہوں نے بتایا کہ اینٹی موٹم ڈیٹا سے خضرعلی، حیدر علی، عامرعلی، ابو بکر، یاسین، صداقت اللہ، یوسف خان، نعمت اللہ اورعبداللہ کی بھی شناخت کی گئی ہے۔

گل پلازہ سے ملنے والی ناقابل شناخت لاشوں کی حوالگی سے متعلق قانون سازی کا نہ ہونا بھی ایک مسلئہ ہے، سینیئر وکیل خیر محمد خٹل کے مطابق ڈی این اے کے باوجود شناخت نہ ہونے والی لاشوں کی حوالگی سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں، لاوارث لاش ملنے کی صورت میں عدالت رفاحی اداروں کو امانتاً تدفین کی اجازت دے سکتی ہے، ورثا کی موجودگی میں ناقابل شناخت لاشوں کی حوالگی عدالتی اختیار نہیں ہے، شناخت نہ ہونے پر اجتماعی تدفین بھی کی جاسکتی ہے۔

قانونی ماہر عابد زمان کا کہنا ہے کہ سانحہ بلدیہ میں لاشوں کی بغیر شناخت تدفین کی گئی تھی، انتظامیہ نے اجتماعی تدفین کرنا تھی لیکن عدالت نے انفرادی حیثیت میں تدفین کا حکم دیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایسا سنگین مسلئہ ہے کہ سانحہ کے بعد لواحقین کا ایک اور امتحان اپنے پیاروں کی شناخت کا عمل ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان، 2 افسران معطل

سانحہ بلدیہ سے سانحہ گل پلازہ تک انتظامی طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئی، سانحہ بلدیہ میں بھی لواحقین اپنے پیاروں کی شناخت کرتے رہے اور اب سانحہ گل پلازہ میں بھی وہی صورت حال ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل سندھ کے مطابق ضلعی انتظامیہ یا کسی اور نے اب تک لاشوں کی حوالگی کے لیے قانونی معاونت کے لیے رابطہ نہیں کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews تدفین ڈی این اے سانحہ بلدیہ فیکٹری سانحہ گل پلازہ شناخت کا عمل لاشوں کی حوالگی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تدفین ڈی این اے سانحہ بلدیہ فیکٹری سانحہ گل پلازہ شناخت کا عمل لاشوں کی حوالگی وی نیوز لاشوں کی حوالگی سانحہ گل پلازہ جاں بحق ہونے گل پلازہ میں سانحہ بلدیہ کے مطابق افراد کی نے والی کے لیے کی گئی

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ