کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملے ناکام، 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ، گوادر، پنجگور اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کے حملے ناکام بنا دیے گئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں میں تین خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فتنہ الہندوستان کے سرپرستی یافتہ دہشت گردوں نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی۔ دہشت گردوں نے 31 جنوری کو کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی میں بیک وقت کارروائیاں کیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان حملوں کا مقصد شہری آبادی کو نشانہ بنا کر صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ دہشت گردوں نے گوادر اور خاران میں خواتین، بچوں اور مزدوروں سمیت 18 بے گناہ شہریوں کو شہید کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے کوئٹہ، گوادر، پنجگور اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کے حملے ناکام بناتے ہوئے تین خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ گزشتہ دو دنوں کے دوران بلوچستان میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران 15 سکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے پاکستان سے باہر بیٹھے دہشت گرد سرغنوں کی ہدایات پر کیے گئے اور کارروائی کے دوران دہشت گردوں کا براہِ راست رابطہ بیرونی ہینڈلرز سے رہا۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں سینیٹائزیشن آپریشنز تاحال جاری ہیں، جبکہ منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ بیان کے مطابق عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر علاقوں میں کے مطابق
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔