امریکی عدالت نے ٹیکساس کے ایک امیگریشن حراستی مرکز سے 5 سالہ بچے اور اس کے والد کی رہائی کا حکم دے دیا ہے، جبکہ جج نے ان کی گرفتاری کو ’بے لگام طاقت کی ہوس‘ سے تعبیر کیا ہے۔

5 سالہ لیام کونیخو راموس، جس کی تصویر نیلے رنگ کی خرگوش نما ٹوپی اور اسپائیڈر مین بیگ کے ساتھ سامنے آئی تھی، کو امریکی ریاست منی ایپولس میں اس کے گھر کے ڈرائیو وے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ بچے کے والد، ایڈرین الیگزینڈر کونیخو ایریاس، کو بھی اسی کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد میں ہوشربا اضافہ

امیگریشن حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی بچے کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ کارروائی بچے کے والد کے خلاف تھی، جنہیں حکام نے غیر قانونی تارکِ وطن قرار دیا۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود عوامی غم و غصہ کم نہ ہو سکا۔

ہفتے کے روز امریکی ڈسٹرکٹ جج فریڈ بیئری نے خاندان کے وکیل کی ہنگامی درخواست منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ والد اور بیٹے کو 3 فروری تک رہا کیا جائے۔ جج نے اپنے فیصلے میں بچے کی تصویر بھی شامل کی اور لکھا کہ یہ کیس روزانہ کی بنیاد پر ملک بدری کے اہداف کے ’غلط اور نااہل نفاذ‘ کا نتیجہ ہے، جس میں بچوں کو ذہنی صدمہ پہنچایا جا رہا ہے۔

جج بیئری نے کہا کہ امریکی امیگریشن نظام کے تحت ملک بدری کا عمل زیادہ منظم اور انسانی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق بعض افراد کے لیے طاقت کے حصول میں ظلم کی کوئی حد نہیں رہتی۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا کی غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے رضاکارانہ واپسی پر 3 ہزار ڈالر کی پیشکش

خاندان کے وکیل مارک پروکوش کے مطابق باپ بیٹا اس وقت سان انتونیو، ٹیکساس کے ایک حراستی مرکز میں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں 2024 میں ایکواڈور سے امریکا آئے تھے اور پناہ کی درخواست سمیت تمام قانونی تقاضے پورے کر رہے تھے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے منی ایپولس میں ’آپریشن میٹرو سرج‘ کے تحت امیگریشن کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار