برطانیہ کا سب سے قدیم بھارتی ریسٹورنٹ ویراسوامی جو گزشتہ 99 برس سے لندن کی ریجنٹ اسٹریٹ پر قائم ہے، بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔

ریسٹورنٹ کی انتظامیہ اور حامیوں نے اس تاریخی ادارے کو بچانے کے لیے بادشاہ چارلس سوم سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے آئندہ چند ہفتوں میں بکنگھم پیلس میں درخواست جمع کرانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی کے سری لنکن ریسٹورنٹ میں ایسا کیا ہے کہ شہری وہاں کا رخ کر رہے ہیں؟

ویراسوامی کی بنیاد 1926 میں رکھی گئی تھی اور یہ آج بھی اپنی اصل جگہ پر قائم ہے۔ تاہم زمین کے مالک ادارے کراؤن اسٹیٹ نے ریسٹورنٹ کی لیز کی تجدید سے انکار کر دیا ہے۔ کراؤن اسٹیٹ کا مؤقف ہے کہ عمارت کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرِنو تعمیر و مرمت کی ضرورت ہے، جو ریسٹورنٹ کی موجودگی کے ساتھ ممکن نہیں۔

ریسٹورنٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ویراسوامی محض ایک کھانے کی جگہ نہیں بلکہ برطانیہ اور بھارت کے درمیان ثقافتی تعلقات کی زندہ علامت ہے۔ ایک آن لائن پٹیشن پر اب تک 18 ہزار سے زائد دستخط ہو چکے ہیں، جبکہ معروف شیف ریمونڈ بلانک، مشیل رو اور رچرڈ کوریگن سمیت کئی مشہور شخصیات نے بھی ریسٹورنٹ کو بچانے کی حمایت کی ہے۔

ویراسوامی نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمن بمباری کے باوجود خدمات جاری رکھیں اور اس کے گاہکوں میں مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، ونسٹن چرچل، چارلی چیپلن اور مارلن برانڈو جیسی شخصیات شامل رہیں۔ ریسٹورنٹ کو 2016 میں مشیلن اسٹار بھی دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: ملتان کا معذور جوڑا، شوہر کی نوکری ختم ہوئی تو بیوی نے ساتھ مل کر ریسٹورنٹ کھول لیا

ریسٹورنٹ کے شریک مالک رنجیت ماتھرانی کا کہنا ہے کہ بادشاہ چارلس اگر پسِ پردہ حمایت کریں تو کوئی قابلِ قبول حل نکل سکتا ہے۔ دوسری جانب بکنگھم پیلس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کراؤن اسٹیٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اگر فریقین میں اتفاق نہ ہوا تو یہ تنازع آئندہ موسمِ گرما میں عدالت پہنچ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بادشاہ چارلس کھانے ہوٹل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بادشاہ چارلس کھانے ہوٹل بادشاہ چارلس

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل