برطانیہ کا تاریخی بھارتی ریسٹورنٹ 99 سال بعد بند ہونے کے قریب، بادشاہ چارلس سے مداخلت کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
برطانیہ کا سب سے قدیم بھارتی ریسٹورنٹ ویراسوامی جو گزشتہ 99 برس سے لندن کی ریجنٹ اسٹریٹ پر قائم ہے، بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔
ریسٹورنٹ کی انتظامیہ اور حامیوں نے اس تاریخی ادارے کو بچانے کے لیے بادشاہ چارلس سوم سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے آئندہ چند ہفتوں میں بکنگھم پیلس میں درخواست جمع کرانے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی کے سری لنکن ریسٹورنٹ میں ایسا کیا ہے کہ شہری وہاں کا رخ کر رہے ہیں؟
ویراسوامی کی بنیاد 1926 میں رکھی گئی تھی اور یہ آج بھی اپنی اصل جگہ پر قائم ہے۔ تاہم زمین کے مالک ادارے کراؤن اسٹیٹ نے ریسٹورنٹ کی لیز کی تجدید سے انکار کر دیا ہے۔ کراؤن اسٹیٹ کا مؤقف ہے کہ عمارت کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرِنو تعمیر و مرمت کی ضرورت ہے، جو ریسٹورنٹ کی موجودگی کے ساتھ ممکن نہیں۔
ریسٹورنٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ویراسوامی محض ایک کھانے کی جگہ نہیں بلکہ برطانیہ اور بھارت کے درمیان ثقافتی تعلقات کی زندہ علامت ہے۔ ایک آن لائن پٹیشن پر اب تک 18 ہزار سے زائد دستخط ہو چکے ہیں، جبکہ معروف شیف ریمونڈ بلانک، مشیل رو اور رچرڈ کوریگن سمیت کئی مشہور شخصیات نے بھی ریسٹورنٹ کو بچانے کی حمایت کی ہے۔
ویراسوامی نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمن بمباری کے باوجود خدمات جاری رکھیں اور اس کے گاہکوں میں مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، ونسٹن چرچل، چارلی چیپلن اور مارلن برانڈو جیسی شخصیات شامل رہیں۔ ریسٹورنٹ کو 2016 میں مشیلن اسٹار بھی دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: ملتان کا معذور جوڑا، شوہر کی نوکری ختم ہوئی تو بیوی نے ساتھ مل کر ریسٹورنٹ کھول لیا
ریسٹورنٹ کے شریک مالک رنجیت ماتھرانی کا کہنا ہے کہ بادشاہ چارلس اگر پسِ پردہ حمایت کریں تو کوئی قابلِ قبول حل نکل سکتا ہے۔ دوسری جانب بکنگھم پیلس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کراؤن اسٹیٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اگر فریقین میں اتفاق نہ ہوا تو یہ تنازع آئندہ موسمِ گرما میں عدالت پہنچ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بادشاہ چارلس کھانے ہوٹل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بادشاہ چارلس کھانے ہوٹل بادشاہ چارلس
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔