امریکا کی بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت، نیٹلی بیکر کا اظہارِ یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام آباد:
امریکا نے بلوچستان میں 31 جنوری کو سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں اور حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے، جو امریکا کی جانب سے نامزد کردہ ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ہے۔
نیٹلی بیکر نے دہشت گردی کے متاثرین، ان کے اہل خانہ اور اس واقعے سے متاثر ہونے والے تمام افراد سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیںپنجاب سے بلوچستان کا زمینی رابطہ منقطع، تمام داخلی راستے بند
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تشدد اور خوف سے آزاد زندگی گزاریں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا پاکستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کی کوششوں میں ایک ثابت قدم شراکت دار ہے اور اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے 12 مقامات پر حملے ناکام بناتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے کارروائیوں میں 92 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جبکہ مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے 15 جوان اور 18 شہری جاں بحق ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔