فاکس نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مغربی ایشیا میں تازہ ترین پیش رفت کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیج فارس میں ہمارے اتحادی مذاکرات کر رہے ہیں، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا ہوتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا جانے والی ایئر فورس ون پر کہا ہے کہ ایران سنجیدگی سے مذاکرات کر رہا ہے، مجھے امید ہے کہ ہم کسی قابل قبول نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہم سے بات کر رہا ہے اور ہم دیکھیں گے کہ کیا ہم کچھ کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ میں تفصیلات میں نہیں جا سکتا، لیکن مجھے امید ہے کہ ہم مذاکرات کے ذریعے ایک قابل قبول معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے کوئی تسلی بخش معاہدہ طے پا سکتا ہے، جس میں جوہری ہتھیار شامل نہیں ہیں تو یقیناً اس راستے پر چلنا بہتر ہوگا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہندوستان ایران سے تیل خریدنے کے بجائے وینزویلا کا تیل خریدے گا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے اس معاہدے کو مؤثر طریقے سے انجام دیا ہے، اس کے فریم ورک اور تصور کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ تین ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ تبصرے ایک دن بعد آئے، جب امریکہ نے نئی دہلی کو بتایا کہ وہ جلد ہی اسے وینزویلا کے تیل کی خریداری دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے سکتا ہے، تاکہ اس کے کچھ روسی تیل کی درآمدات کو تبدیل کیا جا سکے۔ فاکس نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مغربی ایشیاء میں تازہ ترین پیش رفت کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیج فارس میں ہمارے اتحادی مذاکرات کر رہے ہیں، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا ہوتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل