کیا وزیرداخلہ بتا سکتے ہیں وہ ایس ایچ او کہاں ہے؟ اختر مینگل کا سوال
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
بلوچستان کو نو انٹری زون میں تبدیل کر دیا گیا ہے، میڈیا ہاؤسز سب خاموش ہیں
میں نے زندگی میں اس قدر تشویشناک صورتحال نہیں دیکھی،سربراہ بی این پی مینگل
صوبہ بلوچستان کی صورتحال پر بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہیوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال اس وقت انتہائی تشویشناک ہے اور اس نے علاقے کو نو انٹری زون میں تبدیل کر دیا ہے، میں نے اپنی زندگی میں اس قدر تشویشناک صورتحال نہیں دیکھی، میڈیا ہاؤسز سب خاموش ہیں، کیا وزیر داخلہ واضح کر سکتے ہیں کہ ایس ایچ او کہاں ہے؟۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق گذشتہ رات فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں یہ تمام حملے ناکام بنادیٔے گئے، ان دہشت گردانہ کارروائیوں میں اب تک فتنہ الہندوستان کے 37 دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں، اس دوران سکیورٹی اداروں اور پولیس کے 10 جوان اس دھرتی اور عوام کی حفاظت کیلئے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز کا مختلف لوکیشنز پر دہشتگردوں کا تعاقب اور ان کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ہے، ان کاروائیوں کے نتیجے میں مزید دہشتگردوں کی ہلاکتیں اور نقصانات کی بھی اطالاعات ہیں، اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے ادارے گزشتہ 48 گھنٹوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس کے علاوہ کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان کے 41 دہشت گرد پہلے ہی جہنم واصل کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔