بانی پی ٹی آئی عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی تشخیص
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بانی پی ٹی آئی عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی تشخیص، سی آر وی او (CRVO) کیا ہے اور سابق وزیر اعظم کو فوری آنکھوں کے علاج کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
سابق وزیرِاعظم عمران خان میں آنکھوں کی ایک سنگین بیماری کی تشخیص ہوئی ہے جسے سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) کہا جاتا ہے۔
یہ عارضہ عموماً عمر رسیدہ افراد میں پایا جاتا ہے اور اس کا تعلق دل اور خون کی نالیوں سے جڑے خطراتی عوامل جیسے ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے ہوتا ہے۔ ماہرینِ چشم کے مطابق CRVO اس وقت ہوتا ہے جب ریٹینا (آنکھ کے پردے) سے خون واپس لے جانے والی مرکزی رگ، جسے سینٹرل ریٹینل وین کہا جاتا ہے، بند ہو جاتی ہے، جو عموماً خون کے لوتھڑے (clot) کے باعث ہوتا ہے۔
اس رکاوٹ کے نتیجے میں خون کی روانی متاثر ہو جاتی ہے، جس سے ریٹینا میں سوجن، رطوبت اور خون کا رساؤ اور بعض اوقات آنکھ کے اندر خون بہنے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے باعث نظر اچانک یا بتدریج کمزور ہو سکتی ہے۔
ایک سینئر ماہرِ چشم نے بتایا کہ CRVO کے مریضوں کو قریبی اور مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ کچھ مریضوں میں چند ہفتوں یا مہینوں کے اندر سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ماہر چشم کے مطابق اس بیماری کو بعض اوقات غیر رسمی طور پر ’سو دن کا گلوکوما‘ بھی کہا جاتا ہے، جو دراصل نیو ویسکیولر گلوکوما کی طرف اشارہ ہے۔ یہ ایک پیچیدگی ہے جو شدید ریٹینل وین اوکلوژن کے بعد پیدا ہو سکتی ہے جب غیر معمولی نئی خون کی نالیاں بنتی ہیں اور آنکھ کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرِ چشم جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ یہ صرف آنکھوں کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ یہ جسم میں موجود خون کی نالیوں کی بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتا ہے، اس لیے مریض کی مجموعی صحت کی سخت نگرانی ضروری ہوتی ہے۔
عمران خان کے معاملے میں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی دائیں آنکھ کی نظر کم ہونے پر تفصیلی معائنہ کیا گیا جس میں ریٹینا کی امیجنگ اور آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی (OCT) شامل تھی۔ یہ معائنہ اڈیالہ جیل میں کیا گیا۔ ان نتائج کی بنیاد پر ڈاکٹروں نے اسپتال میں فالو اَپ علاج کا مشورہ دیا جس کے بعد گزشتہ ہفتے رات گئے انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا تاکہ تجویز کردہ طریقۂ علاج کیا جا سکے۔
پمز میں عمران خان کو اینٹی وی ای جی ایف دوا کا آنکھ کے اندر انجیکشن دیا گیا جو ریٹینا کی سوجن (جسے میکولر ایڈیما کہا جاتا ہے) کم کرنے اور خون کی نالیوں سے ہونے والے رساؤ کے باعث مزید نقصان کو روکنے کے لیے ایک معیاری علاج ہے۔
ماہرِ چشم کے مطابق علاج کے ابتدائی مرحلے میں اس نوعیت کے انجیکشن عموماً ماہانہ بنیادوں پر لگانے پڑتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ زیادہ امکان ہے کہ انہیں ہر ماہ مزید انجیکشنز کی ضرورت پڑے، یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ریٹینا علاج پر کس طرح ردِعمل دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا جاتا ہے کے مطابق ا نکھوں خون کی
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔