ایپسٹین میرا دوست نہیں تھا، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
امریکی محکمہ انصاف نے حال ہی میں جیفری ایپسٹین سے متعلق 3 ملین سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کیں، جن میں سے کچھ میں ایپسٹین کی مائیکل وولف کے ساتھ خط و کتابت بھی شامل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپسٹین سے کسی بھی تعلق کی تردید کی اور امریکی مصنف مائیکل وولف کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خبررساں ادارے تسنیم کے انٹرنیشنل گروپ کے مطابق جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی تازہ ترین دستاویزات کے اجراء کے ردعمل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے ساتھ کسی قسم کی دوستی کی تردید کرتے ہوئے امریکی مصنف مائیکل وولف کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کردیا۔
ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایپسٹین کبھی بھی ان کا دوست نہیں تھا اور دعویٰ کیا کہ اس شخص نے مائیکل وولف کے ساتھ مل کر ان کی سیاسی مہم کو نقصان پہنچانے کے لیے کام کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نئی جاری کردہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ایپسٹین نے ان کے خلاف کام کیا تھا اور ان کا تعلق کچھ دعووں کے برعکس تھا۔ امریکی محکمہ انصاف نے حال ہی میں جیفری ایپسٹین سے متعلق 3 ملین سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کیں، جن میں سے کچھ میں ایپسٹین کی مائیکل وولف کے ساتھ خط و کتابت بھی شامل ہے۔ دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے، ٹرمپ نے وولف کو "کم کلیدی مصنف" قرار دیا اور کہا کہ وہ ان کے خلاف قانونی کارروائی ضرور کریں گے۔ امریکی صدر نے یہ تجویز بھی دی کہ ایپسٹین کی جائیداد اور جائیداد کے خلاف مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دستاویزات کا مواد نہ صرف اسے مجرم قرار دیتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ایپسٹین اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایپسٹین کی کے ساتھ کے خلاف کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔