بلوچستان: دفعہ 144 کے تحت موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
فائل فوٹو
بلوچستان بھر میں دفعہ 144 کے تحت موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی۔
محکمہ داخلہ کے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش پر بھی پابندی عائد ہوگی۔
نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ کالے شیشوں والی اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں پر بھی پابندی نافذ کر دی گئی ہے، اس کے علاوہ 5 یا 5 سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔
محکمہ داخلہ کے مطابق عوامی مقامات پر چہرے کو مفلر یا کسی اور چیز سے ڈھانپنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان پابندیوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پابندی عائد پر بھی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔