ملتان میں احباب کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر کاکہنا تھا کہ دنیا بھر میں نام نہاد جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔ ظلم، ناانصافی اور طاقت کی سیاست کے مقابلے میں اسلام کا عادلانہ نظام ہی انسانیت کو حقیقی امن اور انصاف فراہم کر سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمعیت طلبہ ملتان کے زیراہتمام منعقدہ احباب کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک میں گزشتہ چار دہائیوں سے طلبہ یونین پر عائد پابندی دراصل نوجوان قیادت کے ابھرنے سے خوف کی علامت ہے۔ حکمران طبقہ نہیں چاہتا کہ تعلیمی اداروں سے باصلاحیت، باکردار اور باخبر قیادت سامنے آئے، اسی لیے جمہوری عمل کو منجمد کر رکھا گیا ہے۔ اس موقع پر حسن بلال ہاشمی ناظم اعلی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان، نصر اللہ گورایا سابق ناظم اعلی اسلامی میں طلبہ پاکستان، سید ذیشان اختر امیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی، صہیب عمار صدیقی امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان، ابوذر غفاری ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب جنوبی ڈاکٹر محمد علی نظامی صدر حلقہ احباب اور حبیب رزاق ناظم اسلامی جمعیت طلبہ ملتان بھی موجود تھے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک طلبہ میں فکری پختگی، اخلاقی تربیت اور سماجی ذمہ داری کے شعور کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان شدید فکری یلغار اور سماجی مسائل کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں اسلامی جمعیت طلبہ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو مقصدِ زندگی، اخلاقی استحکام اور اجتماعی شعور سے جوڑے۔ جمعیت کی منظم تربیت ہی معاشرے کو باکردار اور ذمہ دار قیادت فراہم کر سکتی ہے۔لیاقت بلوچ نے ملکی اور عالمی حالات پر بات کرتے ہوئے  کہا کہ دنیا بھر میں نام نہاد جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔ ظلم، ناانصافی اور طاقت کی سیاست کے مقابلے میں اسلام کا عادلانہ نظام ہی انسانیت کو حقیقی امن اور انصاف فراہم کر سکتا ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت طلبہ جماعت اسلامی لیاقت بلوچ

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی