طلبہ یونین پر پابندی نوجوان قیادت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
ملتان میں احباب کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر کاکہنا تھا کہ دنیا بھر میں نام نہاد جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔ ظلم، ناانصافی اور طاقت کی سیاست کے مقابلے میں اسلام کا عادلانہ نظام ہی انسانیت کو حقیقی امن اور انصاف فراہم کر سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمعیت طلبہ ملتان کے زیراہتمام منعقدہ احباب کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک میں گزشتہ چار دہائیوں سے طلبہ یونین پر عائد پابندی دراصل نوجوان قیادت کے ابھرنے سے خوف کی علامت ہے۔ حکمران طبقہ نہیں چاہتا کہ تعلیمی اداروں سے باصلاحیت، باکردار اور باخبر قیادت سامنے آئے، اسی لیے جمہوری عمل کو منجمد کر رکھا گیا ہے۔ اس موقع پر حسن بلال ہاشمی ناظم اعلی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان، نصر اللہ گورایا سابق ناظم اعلی اسلامی میں طلبہ پاکستان، سید ذیشان اختر امیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی، صہیب عمار صدیقی امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان، ابوذر غفاری ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب جنوبی ڈاکٹر محمد علی نظامی صدر حلقہ احباب اور حبیب رزاق ناظم اسلامی جمعیت طلبہ ملتان بھی موجود تھے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک طلبہ میں فکری پختگی، اخلاقی تربیت اور سماجی ذمہ داری کے شعور کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان شدید فکری یلغار اور سماجی مسائل کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں اسلامی جمعیت طلبہ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو مقصدِ زندگی، اخلاقی استحکام اور اجتماعی شعور سے جوڑے۔ جمعیت کی منظم تربیت ہی معاشرے کو باکردار اور ذمہ دار قیادت فراہم کر سکتی ہے۔لیاقت بلوچ نے ملکی اور عالمی حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں نام نہاد جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔ ظلم، ناانصافی اور طاقت کی سیاست کے مقابلے میں اسلام کا عادلانہ نظام ہی انسانیت کو حقیقی امن اور انصاف فراہم کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت طلبہ جماعت اسلامی لیاقت بلوچ
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔