جماعت اسلامی کا ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘آج شاہراہ فیصل پر عظیم الشان احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی :جماعت اسلامی کراچی نے شہر میں بڑھتے ہوئے مسائل، بدانتظامی اور شہریوں کو درپیش بنیادی سہولتوں کے فقدان کے خلاف آج ہونے والے ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ ترجمان جماعت اسلامی کراچی کے مطابق یہ عظیم الشان مارچ آج سہ پہر 3 بجے شاہراہ فیصل پر منعقد ہوگا، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
ترجمان کے مطابق جینے دو کراچی مارچ کی قیادت امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کریں گے جبکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن مارچ سے خصوصی خطاب کریں گے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اس مارچ کا مقصد کراچی کے شہریوں کو درپیش مسائل، عدم تحفظ، ٹریفک حادثات، بدعنوانی اور ناقص حکمرانی کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔
منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی کے شہری صرف جینے کا حق اور بنیادی سہولتیں مانگ رہے ہیں مگر حکمرانوں کے پاس جھوٹے وعدوں اور اعلانات کے سوا کچھ نہیں، گل پلازہ سانحہ نے پیپلز پارٹی کی کرپشن، بدانتظامی اور نااہلی کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ سانحے کو دو ہفتے گزرنے کے باوجود متاثرین کو انصاف نہیں مل سکا۔
انہوں نے سندھ حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کو مکمل طور پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں نہ شہریوں کی جان محفوظ ہے اور نہ ہی مال۔ شہر کے باسی شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر حادثات اور سانحات معمول بنتے جا رہے ہیں، ریڈ لائن منصوبہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے، جس کے باعث آئے روز ٹریفک حادثات پیش آ رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کے امیر نے بتایا کہ صرف جنوری کے مہینے میں کراچی میں 450 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے، جو شہری انتظامیہ اور ٹریفک مینجمنٹ کی بدترین ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قابض میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دیں، بصورت دیگر جماعت اسلامی سٹی کونسل میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر مجبور ہوگی۔
ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق تاجر برادری نے بھی جینے دو کراچی مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بدامنی، ٹریفک جام، انفراسٹرکچر کی تباہ حالی اور حکومتی نااہلی نے کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
جماعت اسلامی نے کراچی کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جینے دو کراچی مارچ میں بھرپور شرکت کریں اور پرامن جدوجہد کے ذریعے حکمرانوں کو یہ پیغام دیں کہ کراچی اب مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جینے دو کراچی مارچ جماعت اسلامی کراچی کے کے خلاف
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔