دہشتگردی جیسے سنگین مسئلےپر سیاسیت شہدا ء کی توہین ہے، امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
سلام آباد:(نیوزڈیسک)وفاقی وزیر اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان پر سخت ردعمل ۔یہ اچھا ہوا کہ وزیراعلیٰ نے پہلی بار اس حقیقت کا اعتراف کر لیا کہ دہشتگرد آئے اور عوام کے گھروں میں گھس گئے۔ اگر یہ احساس انہیں پہلے ہو جاتا تو شاید حالات اس حد تک نہ پہنچتے۔وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے حالیہ بیان کو بے بنیاد، گمراہ کن اور زمینی حقائق کے سراسر منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسئلے کو سیاسی بیان بازی کی نذر کرنا نہایت افسوسناک اور شہداء و متاثرہ عوام کی قربانیوں کی کھلی توہین ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ ’’دہشت گرد آئے اور گھروں میں گھس گئے‘‘ دراصل ان کی اپنی ناکام طرزِ حکمرانی کا اعتراف ہے۔ سوال یہ ہے کہ دہشت گرد کس کی حکومت میں آئے اور صوبائی حکومت نے ان کے خلاف کیا مؤثر کارروائی کی؟وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پوری قوم نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جنہیں سیاسی مقاصد کے لیے متنازع بنانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں کے نام پر صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے فنڈز لیے ہیں۔ انہیں ثبوت دینا چاہئے کہ فنڈز کہاں خرچ ہوئے۔ اپنی نااہلی چھپانے کے لیے اداروں پر الزام تراشی کر رہی ہے۔انجینئر امیر مقام نے وزیراعلیٰ کے گرینڈ جرگے اور اسلام آباد مارچ کو سیاسی شعبدہ بازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھمکی آمیز زبان، ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا اور بغیر ثبوت الزامات لگانا قومی اتحاد اور یکجہتی کو کمزور کرتا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) دہشت گردی کے خلاف واضح، سنجیدہ اور ذمہ دار مؤقف رکھتی ہے اور ہر مشکل گھڑی میں خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔