ڈیزل مہنگا، کرایوں میں 50 روپے تا 150 روپے اضافہ کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے بعد لاہور میں ٹرانسپورٹرز نے خود ساختہ طور پر کرایوں میں اضافہ کردیا۔
مسافر بسوں کے کرایوں میں پچاس روپے سے ایک سو پچاس روپےتک کا اضافہ کیاگیاہے،لاہورسے راولپنڈی کا کرایہ 1600 سے بڑھا کر سے 1750کردیا گیا،ڈیڑھ سو روپےاضافے کےساتھ لاہورسےرحیم یارخان کے 1900 روپےوصول کیےجارہے ہیں،لاہور سے گوجرانوالہ کا کرایہ بھی بڑھ گیا۔
مسافروں کاکہنا تھا کرائے بڑھنے سے مشکلات بڑھ جاتی ہیں ،روز مرہ کی اشیا بھی مہنگی ہوجاتی ہیں، شہریوں نےمطالبہ کیا ہےکہ ڈیزل کی قیمت میں کمی کرکےعوام کی ریلیف دیا جائے
خیال رہےکہ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 253 روپے 17 پیسے برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے،قیمتوں میں اضافے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 268 روپے 38 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔