اسرائیلی اقدامات کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، مسلم وزرائے خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی پر پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فریقین انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کو محفوظ اور برقرار رکھیں۔
غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آٹھوں ممالک کے وزرائے خارجہ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ اسرائیل کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہوچکے۔ اسرائیلی اقدامات خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی کامیابی کے لیے وابستگی ضروری ہے۔
مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ تمام فریقین اس نازک مرحلے میں اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر نبھائیں۔ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے جو موجودہ عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔ دیرپا امن فلسطینی عوام کے حق خودارادیت ، ریاستی حیثیت ،اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق ہونا چاہئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔