ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو پورے خطے میں پھیل جائےگی، خامنہ ای نے امریکا کو خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر جنگ مسلط کی تو وہ ایک علاقائی جنگ کی صورت اختیار کرلےگی۔
تہران میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ امریکیوں کا کبھی کبھار جنگ کی بات کرنا اور طیاروں، جنگی بحری جہازوں وغیرہ کا ذکر کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی امریکا بارہا اپنے بیانات میں دھمکیاں دیتا رہا ہے اور کہتا رہا ہے کہ تمام آپشنز میز پر ہیں، جن میں جنگ کا آپشن بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی: پاکستان کا مکالمے اور سفارت کاری پر زور، وزیراعظم کا صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے کہاکہ اب بھی یہ شخص کہہ رہا ہے کہ انہوں نے جنگی بحری جہاز اور دیگر ہتھیار تعینات کر دیے ہیں، لیکن ایرانی قوم کو ایسی باتوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، ایران کے عوام ان دھمکیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔
انہوں نے زور دیا کہ ہم جنگ کا آغاز کرنے والے نہیں ہیں اور کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، لیکن جو بھی حملہ کرے گا یا ہراساں کرے گا، اسے سخت جواب دیا جائے گا۔
خامنہ ای نے کہاکہ امریکا کو یہ جان لینا چاہیے کہ اگر اس بار انہوں نے جنگ شروع کی تو یہ جنگ علاقائی ہوگی۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہاکہ ایران کے پاس تیل، گیس، قیمتی معدنی ذخائر اور ایک اہم اسٹریٹجک محلِ وقوع سمیت کئی قیمتی اثاثے موجود ہیں، اور یہی دولت اور اہمیت لالچی طاقتوں کی توجہ کا باعث بنتی ہے، جو طویل عرصے سے ملک پر غلبہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
ان کے مطابق 30 سال سے زیادہ عرصے تک امریکا نے ایران کے وسائل، تیل، سیاست، سلامتی اور خارجہ تعلقات پر کنٹرول رکھا اور من مانی کرتا رہا، اور اب ان کا اثر ختم ہو چکا ہے، لیکن وہ پہلوی دور کی صورتحال واپس لانا چاہتے ہیں، تاہم ایرانی عوام ان کے راستے میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہی اصل تنازع ہے۔ انسانی حقوق اور دیگر بہانے محض کھوکھلے دعوے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وہ اب بھی لالچ میں مبتلا ہیں، لیکن ایران ڈٹا ہوا ہے اور آئندہ بھی ثابت قدم رہے گا۔ اللہ کے فضل سے ایرانی قوم ان کی سازشوں کو ناکام بنا دے گی۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہاکہ امام خمینی کی ایران واپسی کی سالگرہ نے 11 فروری کو اسلامی انقلاب کی فتح، اسلامی جمہوریہ کے قیام اور اس کے بعد کی تمام قومی کامیابیوں کی بنیاد رکھی، اور اس تاریخی دن کی برکتیں آج بھی جاری ہیں۔
انہوں نے ایران میں حالیہ بدامنی کو بیرونی حمایت یافتہ سازش قرار دیا، جس کی جڑیں امریکا اور اسرائیل سے ملتی ہیں۔ ان کے مطابق اس کے منتظمین کو بیرون ملک سے تربیت اور مالی مدد فراہم کی گئی، جبکہ بعض شرکا گمراہ نوجوان تھے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے عوامی ریلیوں کو اسلامی جمہوریہ کے لیے عوامی حمایت کا ثبوت قرار دیا اور مغربی انسانی حقوق کے دعوؤں کو محض بہانے کہا۔
انہوں نے کہاکہ ایران کے خلاف دشمنی کی وجہ اس کا آزاد راستہ اختیار کرنا اور عالمی طاقتوں کے سامنے مزاحمت ہے، اور خبردار کیا کہ ایسی سازشیں دوبارہ بھی ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
انہوں نے ترقی کے لیے سلامتی کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہاکہ عوامی شمولیت نے بدامنی کو ناکام بنایا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے زور دیا کہ ایران کے وسائل اور اس کی اسٹریٹجک حیثیت غیر ملکی عزائم کو ہوا دیتی ہے، لیکن ایرانی قوم ثابت قدم رہے گی اور ہر جارحیت کو روکے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آیت اللہ خامنہ ای ایران جنگ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا یت اللہ خامنہ ای ایران وی نیوز آیت اللہ خامنہ ای نے نے کہاکہ انہوں نے ایران کے اور اس
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔