Islam Times:
2026-06-02@22:29:01 GMT

ایران حق کا علمبردار

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

ایران حق کا علمبردار

اسلام ٹائمز: یہ یاد رکھیے کہ یہ شیعہ اور سنی کی جنگ نہیں، بلکہ اسلام اور طاغوت کی جنگ ہے۔ عرب دنیا نے بھی ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے کہ ایران پر کسی ممکنہ حملے کیصورت میں وہ امریکہ کیساتھ کھڑے نہیں ہونگے، کیونکہ وہ عرب اسپرنگ کے تلخ نتائج دیکھ چکے ہیں، جس نے لیبیا، شام اور دیگر ممالک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ اگر خدانخواستہ یہ جنگ ٹرمپ جیتتا ہے تو عرب دنیا کو ایک اور تباہ کن طوفان کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اسی لیے انہوں نے درست سمت کا انتخاب کیا ہے اور اپنی سرزمین کو امریکہ اور اسرائیل کیلئے استعمال ہونے سے روک دیا ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلامی جمہوری ایران کیساتھ کھڑے ہوں، اسکے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں اور دنیا کو بتا دیں کہ ہم اہلِ دین ہیں، اہلِ مسجد ہیں اور ان قوتوں کیساتھ ہیں، جو اللہ کی طرف کھڑی ہیں۔ آئیے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں، خود کو سچا اور پکا مسلمان ثابت کریں اور حق کے علمبرداروں کے ساتھ صف باندھ لیں۔ تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
امیر جماعت اہل حرم پاکستان
مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان

آج مشرقِ وسطیٰ اور خلیج ایک مرتبہ پھر جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ امریکی بدمست ہاتھی اپنے مفادات کے حصول کے لیے عالمِ اسلام کو کچلنا چاہتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ پوری دنیا پر حکمرانی کرے، دنیا کے وسائل پر قبضہ جما لے اور اپنی زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کو قانون کا درجہ دے۔ غزہ ہو، ایران ہو یا وینزویلا۔۔۔۔جدھر نگاہ اٹھائیے، ہمیں اسی بدبخت ہاتھی کی چیرہ دستیاں نظر آتی ہیں۔ اللہ کا فضل اور کرم ہے کہ عالمِ اسلام میں اسلامی جمہوری ایران نے اس استکباری یلغار کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا ہے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا حوصلہ دکھایا ہے۔ امریکہ اور ٹرمپ نے اپنے تمام تر عسکری وسائل خلیج میں متعین کر دیئے ہیں، جبکہ دوسری طرف رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنائی حفظہ اللہ نے اسلامی جمہوری ایران کی وہ تمام جنگی صلاحیتیں قوم کے سامنے رکھ دی ہیں، جو برسوں کی محنت، تدبر اور تیاری کا نتیجہ ہیں۔ اب یہ محض ایک سیاسی کشمکش نہیں رہی، بلکہ یہ ڈو اینڈ ڈائی کی جنگ ہے؛ اسلامی دنیا کی عزت و توقیر اور اس کی ہیبت و وقار کی جنگ ہے۔

آج پورے عالمِ اسلام کی نمائندگی اسلامی جمہوری ایران کر رہا ہے اور اسلامی جمہوری ایران کی قیادت رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنائی کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عالمِ اسلام کو ایک عظیم رہنماء، بصیرت رکھنے والا مدبر اور باوقار حکمران عطا فرمایا ہے، جبکہ ٹرمپ ایک ایسا شخص ہے، جس کے سامنے دنیا کے استحصال کے سوا کوئی مقصد دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی جانب سے رہبرِ معظم کے خلاف دی جانے والی دھمکیاں محض گیدڑ بھبکیاں ہیں؛ وہ کبھی بھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر طاغوت اور استکبار کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں، انہیں اپنی جانوں کی پروا نہیں ہوتی۔ وہ اللہ کے دین کے محافظ بن کر میدان میں اترتے ہیں اور اسلامی غیرت و حمیت کی حفاظت کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اگر زندہ رہیں تو غازی کی شان کے ساتھ جیتے ہیں اور اگر میدانِ کارزار میں جامِ شہادت نوش کریں تو شہید کہلاتے ہیں۔

ان کے لیے دونوں صورتوں میں اعزاز ہی اعزاز ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے، جو امریکہ اور اسلامی جمہوری ایران کی جنگ کو نمایاں کرتا ہے، کیونکہ ایران ایک نظریاتی جنگ لڑ رہا ہے، مقصد کے لیے جنگ لڑ رہا ہے، اعلائے کلمۃ الحق کے لیے صف آراء ہے۔ جب رہبرِ معظم اللہ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ دعا کرتے ہیں تو ایک واضح مقصد اور روشن مشن سامنے آتا ہے اور یہ مقصد شہادت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوری ایران کی قیادت سے لے کر ایک عام سپاہی تک، سب جذبۂ شہادت سے سرشار نظر آتے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ مومن کے لیے مطلوب و مقصود نہ مالِ غنیمت ہے اور نہ ہی محض فتوحات، بلکہ رضائے الٰہی ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ شہادت اسی کو نصیب ہوتی ہے، جسے اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں قبول فرما لے۔

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جو اللہ کا وفادار ہوتا ہے، اللہ اسے کبھی رسوا نہیں کرتا۔ بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان نصرتِ دین کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنا لے۔ جو لوگ اللہ سے عہدِ وفا باندھ لیتے ہیں، اللہ بھی ان کے ساتھ وفا کا عہد قائم رکھتا ہے۔ فیض احمد فیض نے کیا خوب کہا تھا:
جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاج گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں
یعنی زمانے کی گردش کا علاج انہی لوگوں کے پاس ہوتا ہے، جو حق کے ساتھ وفادار رہتے ہیں۔ آج میں علماءِ کرام، اہلِ مدرسہ، اہلِ مسجد اور دینِ رسولؐ کے محافظوں سے گزارش کرتا ہوں کہ مسلکی اختلافات اور فقہی تفاوت کو ایک طرف رکھ کر یہ سوچیے کہ استکبار، صہیونیت اور طاغوت کے مقابل کون کھڑا ہے۔ وہ ایک مدرسے اور حوزۂ علمیہ کا فاضل ہے، جس کا تعلق مسجد اور منبر سے ہے۔ آج پوری دنیا میں طاغوت کو چیلنج کرنے والا شخص ہم میں سے ہے، اہلِ مسجد میں سے ہے، اہلِ مدرسہ میں سے ہے۔ یہ ہمارے لیے فخر اور اعزاز کی بات ہے۔

اگرچہ عالمِ اسلام میں بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل لیڈر بھی موجود ہیں، مگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے طاغوت، صہیونیت اور استکبار کے مقابل کھڑے ہونے کی جرأت جس شخص کو عطا فرمائی ہے، وہ دین کا علمبردار ہے، نمازِ جمعہ کا خطیب ہے اور امت کی رہنمائی کر رہا ہے۔ اس لیے ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ ہم عسکری مدد نہ سہی، مگر اخلاقی حمایت ضرور فراہم کرسکتے ہیں اور یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ پورے عالمِ اسلام کے اہلِ مدرسہ اور اہلِ مسجد اس کے ساتھ ہیں۔ یہ یاد رکھیے کہ یہ شیعہ اور سنی کی جنگ نہیں، بلکہ اسلام اور طاغوت کی جنگ ہے۔ عرب دنیا نے بھی ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے کہ ایران پر کسی ممکنہ حملے کی صورت میں وہ امریکہ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ عرب اسپرنگ کے تلخ نتائج دیکھ چکے ہیں، جس نے لیبیا، شام اور دیگر ممالک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔

اگر خدانخواستہ یہ جنگ ٹرمپ جیتتا ہے تو عرب دنیا کو ایک اور تباہ کن طوفان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے انہوں نے درست سمت کا انتخاب کیا ہے اور اپنی سرزمین کو امریکہ اور اسرائیل کے لیے استعمال ہونے سے روک دیا ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلامی جمہوری ایران کے ساتھ کھڑے ہوں، اس کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں اور دنیا کو بتا دیں کہ ہم اہلِ دین ہیں، اہلِ مسجد ہیں اور ان قوتوں کے ساتھ ہیں، جو اللہ کی طرف کھڑی ہیں۔ آئیے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں، خود کو سچا اور پکا مسلمان ثابت کریں اور حق کے علمبرداروں کے ساتھ صف باندھ لیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوری ایران کی امریکہ اور ساتھ کھڑے کی جنگ ہے عرب دنیا کریں اور دنیا کو ہیں اور کے ساتھ کو ایک رہا ہے اور اس کیا ہے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر