اسلام ٹائمز: یہ یاد رکھیے کہ یہ شیعہ اور سنی کی جنگ نہیں، بلکہ اسلام اور طاغوت کی جنگ ہے۔ عرب دنیا نے بھی ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے کہ ایران پر کسی ممکنہ حملے کیصورت میں وہ امریکہ کیساتھ کھڑے نہیں ہونگے، کیونکہ وہ عرب اسپرنگ کے تلخ نتائج دیکھ چکے ہیں، جس نے لیبیا، شام اور دیگر ممالک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ اگر خدانخواستہ یہ جنگ ٹرمپ جیتتا ہے تو عرب دنیا کو ایک اور تباہ کن طوفان کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اسی لیے انہوں نے درست سمت کا انتخاب کیا ہے اور اپنی سرزمین کو امریکہ اور اسرائیل کیلئے استعمال ہونے سے روک دیا ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلامی جمہوری ایران کیساتھ کھڑے ہوں، اسکے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں اور دنیا کو بتا دیں کہ ہم اہلِ دین ہیں، اہلِ مسجد ہیں اور ان قوتوں کیساتھ ہیں، جو اللہ کی طرف کھڑی ہیں۔ آئیے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں، خود کو سچا اور پکا مسلمان ثابت کریں اور حق کے علمبرداروں کے ساتھ صف باندھ لیں۔ تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
امیر جماعت اہل حرم پاکستان
مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان
آج مشرقِ وسطیٰ اور خلیج ایک مرتبہ پھر جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ امریکی بدمست ہاتھی اپنے مفادات کے حصول کے لیے عالمِ اسلام کو کچلنا چاہتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ پوری دنیا پر حکمرانی کرے، دنیا کے وسائل پر قبضہ جما لے اور اپنی زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کو قانون کا درجہ دے۔ غزہ ہو، ایران ہو یا وینزویلا۔۔۔۔جدھر نگاہ اٹھائیے، ہمیں اسی بدبخت ہاتھی کی چیرہ دستیاں نظر آتی ہیں۔ اللہ کا فضل اور کرم ہے کہ عالمِ اسلام میں اسلامی جمہوری ایران نے اس استکباری یلغار کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا ہے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا حوصلہ دکھایا ہے۔ امریکہ اور ٹرمپ نے اپنے تمام تر عسکری وسائل خلیج میں متعین کر دیئے ہیں، جبکہ دوسری طرف رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنائی حفظہ اللہ نے اسلامی جمہوری ایران کی وہ تمام جنگی صلاحیتیں قوم کے سامنے رکھ دی ہیں، جو برسوں کی محنت، تدبر اور تیاری کا نتیجہ ہیں۔ اب یہ محض ایک سیاسی کشمکش نہیں رہی، بلکہ یہ ڈو اینڈ ڈائی کی جنگ ہے؛ اسلامی دنیا کی عزت و توقیر اور اس کی ہیبت و وقار کی جنگ ہے۔
آج پورے عالمِ اسلام کی نمائندگی اسلامی جمہوری ایران کر رہا ہے اور اسلامی جمہوری ایران کی قیادت رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنائی کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عالمِ اسلام کو ایک عظیم رہنماء، بصیرت رکھنے والا مدبر اور باوقار حکمران عطا فرمایا ہے، جبکہ ٹرمپ ایک ایسا شخص ہے، جس کے سامنے دنیا کے استحصال کے سوا کوئی مقصد دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی جانب سے رہبرِ معظم کے خلاف دی جانے والی دھمکیاں محض گیدڑ بھبکیاں ہیں؛ وہ کبھی بھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر طاغوت اور استکبار کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں، انہیں اپنی جانوں کی پروا نہیں ہوتی۔ وہ اللہ کے دین کے محافظ بن کر میدان میں اترتے ہیں اور اسلامی غیرت و حمیت کی حفاظت کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اگر زندہ رہیں تو غازی کی شان کے ساتھ جیتے ہیں اور اگر میدانِ کارزار میں جامِ شہادت نوش کریں تو شہید کہلاتے ہیں۔
ان کے لیے دونوں صورتوں میں اعزاز ہی اعزاز ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے، جو امریکہ اور اسلامی جمہوری ایران کی جنگ کو نمایاں کرتا ہے، کیونکہ ایران ایک نظریاتی جنگ لڑ رہا ہے، مقصد کے لیے جنگ لڑ رہا ہے، اعلائے کلمۃ الحق کے لیے صف آراء ہے۔ جب رہبرِ معظم اللہ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ دعا کرتے ہیں تو ایک واضح مقصد اور روشن مشن سامنے آتا ہے اور یہ مقصد شہادت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوری ایران کی قیادت سے لے کر ایک عام سپاہی تک، سب جذبۂ شہادت سے سرشار نظر آتے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ مومن کے لیے مطلوب و مقصود نہ مالِ غنیمت ہے اور نہ ہی محض فتوحات، بلکہ رضائے الٰہی ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ شہادت اسی کو نصیب ہوتی ہے، جسے اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں قبول فرما لے۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جو اللہ کا وفادار ہوتا ہے، اللہ اسے کبھی رسوا نہیں کرتا۔ بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان نصرتِ دین کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنا لے۔ جو لوگ اللہ سے عہدِ وفا باندھ لیتے ہیں، اللہ بھی ان کے ساتھ وفا کا عہد قائم رکھتا ہے۔ فیض احمد فیض نے کیا خوب کہا تھا:
جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاج گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں
یعنی زمانے کی گردش کا علاج انہی لوگوں کے پاس ہوتا ہے، جو حق کے ساتھ وفادار رہتے ہیں۔ آج میں علماءِ کرام، اہلِ مدرسہ، اہلِ مسجد اور دینِ رسولؐ کے محافظوں سے گزارش کرتا ہوں کہ مسلکی اختلافات اور فقہی تفاوت کو ایک طرف رکھ کر یہ سوچیے کہ استکبار، صہیونیت اور طاغوت کے مقابل کون کھڑا ہے۔ وہ ایک مدرسے اور حوزۂ علمیہ کا فاضل ہے، جس کا تعلق مسجد اور منبر سے ہے۔ آج پوری دنیا میں طاغوت کو چیلنج کرنے والا شخص ہم میں سے ہے، اہلِ مسجد میں سے ہے، اہلِ مدرسہ میں سے ہے۔ یہ ہمارے لیے فخر اور اعزاز کی بات ہے۔
اگرچہ عالمِ اسلام میں بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل لیڈر بھی موجود ہیں، مگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے طاغوت، صہیونیت اور استکبار کے مقابل کھڑے ہونے کی جرأت جس شخص کو عطا فرمائی ہے، وہ دین کا علمبردار ہے، نمازِ جمعہ کا خطیب ہے اور امت کی رہنمائی کر رہا ہے۔ اس لیے ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ ہم عسکری مدد نہ سہی، مگر اخلاقی حمایت ضرور فراہم کرسکتے ہیں اور یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ پورے عالمِ اسلام کے اہلِ مدرسہ اور اہلِ مسجد اس کے ساتھ ہیں۔ یہ یاد رکھیے کہ یہ شیعہ اور سنی کی جنگ نہیں، بلکہ اسلام اور طاغوت کی جنگ ہے۔ عرب دنیا نے بھی ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے کہ ایران پر کسی ممکنہ حملے کی صورت میں وہ امریکہ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ عرب اسپرنگ کے تلخ نتائج دیکھ چکے ہیں، جس نے لیبیا، شام اور دیگر ممالک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔
اگر خدانخواستہ یہ جنگ ٹرمپ جیتتا ہے تو عرب دنیا کو ایک اور تباہ کن طوفان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے انہوں نے درست سمت کا انتخاب کیا ہے اور اپنی سرزمین کو امریکہ اور اسرائیل کے لیے استعمال ہونے سے روک دیا ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلامی جمہوری ایران کے ساتھ کھڑے ہوں، اس کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں اور دنیا کو بتا دیں کہ ہم اہلِ دین ہیں، اہلِ مسجد ہیں اور ان قوتوں کے ساتھ ہیں، جو اللہ کی طرف کھڑی ہیں۔ آئیے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں، خود کو سچا اور پکا مسلمان ثابت کریں اور حق کے علمبرداروں کے ساتھ صف باندھ لیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی جمہوری ایران کی امریکہ اور ساتھ کھڑے کی جنگ ہے عرب دنیا کریں اور دنیا کو ہیں اور کے ساتھ کو ایک رہا ہے اور اس کیا ہے ہے اور کے لیے
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :