Islam Times:
2026-07-24@02:38:46 GMT

ایران حق کا علمبردار

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

ایران حق کا علمبردار

اسلام ٹائمز: یہ یاد رکھیے کہ یہ شیعہ اور سنی کی جنگ نہیں، بلکہ اسلام اور طاغوت کی جنگ ہے۔ عرب دنیا نے بھی ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے کہ ایران پر کسی ممکنہ حملے کیصورت میں وہ امریکہ کیساتھ کھڑے نہیں ہونگے، کیونکہ وہ عرب اسپرنگ کے تلخ نتائج دیکھ چکے ہیں، جس نے لیبیا، شام اور دیگر ممالک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ اگر خدانخواستہ یہ جنگ ٹرمپ جیتتا ہے تو عرب دنیا کو ایک اور تباہ کن طوفان کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اسی لیے انہوں نے درست سمت کا انتخاب کیا ہے اور اپنی سرزمین کو امریکہ اور اسرائیل کیلئے استعمال ہونے سے روک دیا ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلامی جمہوری ایران کیساتھ کھڑے ہوں، اسکے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں اور دنیا کو بتا دیں کہ ہم اہلِ دین ہیں، اہلِ مسجد ہیں اور ان قوتوں کیساتھ ہیں، جو اللہ کی طرف کھڑی ہیں۔ آئیے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں، خود کو سچا اور پکا مسلمان ثابت کریں اور حق کے علمبرداروں کے ساتھ صف باندھ لیں۔ تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
امیر جماعت اہل حرم پاکستان
مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان

آج مشرقِ وسطیٰ اور خلیج ایک مرتبہ پھر جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ امریکی بدمست ہاتھی اپنے مفادات کے حصول کے لیے عالمِ اسلام کو کچلنا چاہتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ پوری دنیا پر حکمرانی کرے، دنیا کے وسائل پر قبضہ جما لے اور اپنی زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کو قانون کا درجہ دے۔ غزہ ہو، ایران ہو یا وینزویلا۔۔۔۔جدھر نگاہ اٹھائیے، ہمیں اسی بدبخت ہاتھی کی چیرہ دستیاں نظر آتی ہیں۔ اللہ کا فضل اور کرم ہے کہ عالمِ اسلام میں اسلامی جمہوری ایران نے اس استکباری یلغار کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا ہے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا حوصلہ دکھایا ہے۔ امریکہ اور ٹرمپ نے اپنے تمام تر عسکری وسائل خلیج میں متعین کر دیئے ہیں، جبکہ دوسری طرف رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنائی حفظہ اللہ نے اسلامی جمہوری ایران کی وہ تمام جنگی صلاحیتیں قوم کے سامنے رکھ دی ہیں، جو برسوں کی محنت، تدبر اور تیاری کا نتیجہ ہیں۔ اب یہ محض ایک سیاسی کشمکش نہیں رہی، بلکہ یہ ڈو اینڈ ڈائی کی جنگ ہے؛ اسلامی دنیا کی عزت و توقیر اور اس کی ہیبت و وقار کی جنگ ہے۔

آج پورے عالمِ اسلام کی نمائندگی اسلامی جمہوری ایران کر رہا ہے اور اسلامی جمہوری ایران کی قیادت رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنائی کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عالمِ اسلام کو ایک عظیم رہنماء، بصیرت رکھنے والا مدبر اور باوقار حکمران عطا فرمایا ہے، جبکہ ٹرمپ ایک ایسا شخص ہے، جس کے سامنے دنیا کے استحصال کے سوا کوئی مقصد دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی جانب سے رہبرِ معظم کے خلاف دی جانے والی دھمکیاں محض گیدڑ بھبکیاں ہیں؛ وہ کبھی بھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر طاغوت اور استکبار کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں، انہیں اپنی جانوں کی پروا نہیں ہوتی۔ وہ اللہ کے دین کے محافظ بن کر میدان میں اترتے ہیں اور اسلامی غیرت و حمیت کی حفاظت کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اگر زندہ رہیں تو غازی کی شان کے ساتھ جیتے ہیں اور اگر میدانِ کارزار میں جامِ شہادت نوش کریں تو شہید کہلاتے ہیں۔

ان کے لیے دونوں صورتوں میں اعزاز ہی اعزاز ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے، جو امریکہ اور اسلامی جمہوری ایران کی جنگ کو نمایاں کرتا ہے، کیونکہ ایران ایک نظریاتی جنگ لڑ رہا ہے، مقصد کے لیے جنگ لڑ رہا ہے، اعلائے کلمۃ الحق کے لیے صف آراء ہے۔ جب رہبرِ معظم اللہ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ دعا کرتے ہیں تو ایک واضح مقصد اور روشن مشن سامنے آتا ہے اور یہ مقصد شہادت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوری ایران کی قیادت سے لے کر ایک عام سپاہی تک، سب جذبۂ شہادت سے سرشار نظر آتے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ مومن کے لیے مطلوب و مقصود نہ مالِ غنیمت ہے اور نہ ہی محض فتوحات، بلکہ رضائے الٰہی ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ شہادت اسی کو نصیب ہوتی ہے، جسے اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں قبول فرما لے۔

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جو اللہ کا وفادار ہوتا ہے، اللہ اسے کبھی رسوا نہیں کرتا۔ بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان نصرتِ دین کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنا لے۔ جو لوگ اللہ سے عہدِ وفا باندھ لیتے ہیں، اللہ بھی ان کے ساتھ وفا کا عہد قائم رکھتا ہے۔ فیض احمد فیض نے کیا خوب کہا تھا:
جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاج گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں
یعنی زمانے کی گردش کا علاج انہی لوگوں کے پاس ہوتا ہے، جو حق کے ساتھ وفادار رہتے ہیں۔ آج میں علماءِ کرام، اہلِ مدرسہ، اہلِ مسجد اور دینِ رسولؐ کے محافظوں سے گزارش کرتا ہوں کہ مسلکی اختلافات اور فقہی تفاوت کو ایک طرف رکھ کر یہ سوچیے کہ استکبار، صہیونیت اور طاغوت کے مقابل کون کھڑا ہے۔ وہ ایک مدرسے اور حوزۂ علمیہ کا فاضل ہے، جس کا تعلق مسجد اور منبر سے ہے۔ آج پوری دنیا میں طاغوت کو چیلنج کرنے والا شخص ہم میں سے ہے، اہلِ مسجد میں سے ہے، اہلِ مدرسہ میں سے ہے۔ یہ ہمارے لیے فخر اور اعزاز کی بات ہے۔

اگرچہ عالمِ اسلام میں بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل لیڈر بھی موجود ہیں، مگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے طاغوت، صہیونیت اور استکبار کے مقابل کھڑے ہونے کی جرأت جس شخص کو عطا فرمائی ہے، وہ دین کا علمبردار ہے، نمازِ جمعہ کا خطیب ہے اور امت کی رہنمائی کر رہا ہے۔ اس لیے ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ ہم عسکری مدد نہ سہی، مگر اخلاقی حمایت ضرور فراہم کرسکتے ہیں اور یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ پورے عالمِ اسلام کے اہلِ مدرسہ اور اہلِ مسجد اس کے ساتھ ہیں۔ یہ یاد رکھیے کہ یہ شیعہ اور سنی کی جنگ نہیں، بلکہ اسلام اور طاغوت کی جنگ ہے۔ عرب دنیا نے بھی ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے کہ ایران پر کسی ممکنہ حملے کی صورت میں وہ امریکہ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ عرب اسپرنگ کے تلخ نتائج دیکھ چکے ہیں، جس نے لیبیا، شام اور دیگر ممالک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔

اگر خدانخواستہ یہ جنگ ٹرمپ جیتتا ہے تو عرب دنیا کو ایک اور تباہ کن طوفان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے انہوں نے درست سمت کا انتخاب کیا ہے اور اپنی سرزمین کو امریکہ اور اسرائیل کے لیے استعمال ہونے سے روک دیا ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلامی جمہوری ایران کے ساتھ کھڑے ہوں، اس کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں اور دنیا کو بتا دیں کہ ہم اہلِ دین ہیں، اہلِ مسجد ہیں اور ان قوتوں کے ساتھ ہیں، جو اللہ کی طرف کھڑی ہیں۔ آئیے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں، خود کو سچا اور پکا مسلمان ثابت کریں اور حق کے علمبرداروں کے ساتھ صف باندھ لیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوری ایران کی امریکہ اور ساتھ کھڑے کی جنگ ہے عرب دنیا کریں اور دنیا کو ہیں اور کے ساتھ کو ایک رہا ہے اور اس کیا ہے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل

راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار  کرلیا۔

پولیس کے مطابق  بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے  کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔

والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو  بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔

پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان  کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی