ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے ایگزیکٹو ممبر اور ورلڈ بنک کے صدر اجے بنگا پاکستان پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
نجی ٹی وی کے مطابق عالمی بینک کے صدر اجے بنگا 4 فروری تک پاکستان میں قیام کریں گے جس دوران وہ اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران معاشی اصلاحات، بھارت کے ساتھ جاری آبی تنازع پر بات چیت متوقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ورلڈ بینک کے صدر اور ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے ایگزیکٹیو بورڈ کے ممبر اجے بنگا اہم دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق عالمی بینک کے صدر اجے بنگا 4 فروری تک پاکستان میں قیام کریں گے جس دوران وہ اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران معاشی اصلاحات، بھارت کے ساتھ جاری آبی تنازع پر بات چیت متوقع ہے۔ اجے بنگا کی وزیراعظم شہباز شریف، ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے علاوہ توانائی و اقتصادی امور کے حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ واضح رہے کہ انڈین نژاد امریکی اجے بنگا ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس کے ایگزیکٹو ممبران میں سے ایک ہیں جنہیں ٹرمپ نے مقرر کیا ہے۔ غزہ اور بورڈ آف پیس کے حوالے سے حالیہ صورتحال کے تناظر میں اجے بنگا کا دورہ پاکستان غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بورڈ آف پیس کے اجے بنگا کریں گے کے صدر
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔