بھارت نے ہم پر پراکسی وار مسلط کی ہے: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے ہم پرپراکسی وارمسلط کی گئی ہے، نئی دہلی دہشت گردوں کی مکمل فنڈنگ کر رہی ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں 150 سے زائد دہشت گرد مارے گئے، بھارت صوبے میں دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا رقبہ زیادہ آبادی کم ہے، دہشت گرد اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہماری افواج سالوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ہماری حراست میں بھارتی دہشت گرد کلبھوشن بھی بلوچستان سے پکڑا گیا، خیبر پختونخوا بھی دہشت گردوں کا ہدف بنا ہوا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے حکمرانوں کو قومی بیانیے کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے، کے پی حکومت فوج، وفاقی اداروں کو کھل کر سپورٹ کرے، دہشت گرد جو زبان سمجھتے ہیں انہیں اسی میں جواب دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔