جماعت حلقہ خواتین کی رہنماؤں رخشندہ منیب جاوداں فہیم‘دردانہ صدیقی ودیگر کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260202-01-10
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت و بے حسی ، کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کی حق تلفی ، سنگین مسائل اور شہر کی ابتر حالت کے خلاف اتوار کو شاہراہ فیصل پر عظیم الشان اور تاریخی ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ میں ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب، ناظمہ کراچی جاوداں فہیم، سابقہ سیکرٹری جنرل پاکستان دردانہ صدیقی، نائب ناظمات کراچی فرح عمران، شیبا طاہر، ہاجرہ عرفان، سمیہ عاصم، معاون کراچی سمیہ اسلم، فرحینہ نعیم، رہنما جماعت اسلامی ڈاکٹر شمائلہ نعیم،نزہت منعم،سیکرٹری اطلاعات پاکستان فریحہ اشرف، سیکرٹری اطلاعات کراچی ثمرین احمد و سٹی کونسلرز کراچی میٹرو پولیٹن موجود تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔