سندھ کو تقسیم کرنے کی مہم ملکی سا لمیت پر حملہ ہے، سندھی اسٹوڈنٹس موومنٹ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھی اسٹوڈنٹس موومنٹ کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس مرکزی صدر ایڈوکیٹ نوید عباس کلہوڑو کی زیر صدارت D-11 پلیجو ہاؤس قاسم آباد حیدرآباد میں منعقد ہوا۔ مرکزی کمیٹی کی مدت ختم ہونے کے بعد مرکزی کمیٹی کی باڈی توڑ کر 12 رکنی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ جس میں آرگنائزر اعتزاز گانچو اور سیکرٹری ایاز لغاری کو مقرر کیا گیا۔ جبکہ ممبران میں ایڈووکیٹ نوید عباس کلہوڑو، دانش شرما، علی رضا جلبانی، سرمد موریو، ایشور، نور آفتاب، زین جتوئی، عرفان لاشاری، لو لکانی اور حسیب شامل ہیں۔ تمام اضلاع کی باڈی توڑ کر آرگنائزنگ کمیٹیاں بھی بنائی گئیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر تعلیم کی وزارت غیر آئینی ہے، 18ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی سبجیکٹ ہے، اس کے باوجود وفاق میں وزارت تعلیم برقرار رکھنا آئین شکنی کے مترادف ہے۔ غیر آئینی طور پر وزارتیں حاصل کرنے والے دہشت گردوں نے سندھ کو تقسیم کرنے کی مہم چلا کر ملکی سالمیت پر حملہ کیا ہے۔ سندھ نے 1940 کی قرارداد کے تحت ایک آزاد اور خودمختار وطن کے طور پر پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جس میں سندھ کے وسائل پر سندھیوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا تھا۔ لیکن اب سندھ کے وجود پر ہی حملہ کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا کردار سندھ دشمنی پر مبنی ہے۔ نئے صوبوں کی مہم پر پیپلز پارٹی کی مجرمانہ خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کے اتحاد پر دریائے سندھ کی طرح سمجھوتہ کر لیا ہے۔ اس وقت سندھ کے طلبہ 4 مارچ جیسی جدوجہد کی تیاری کریں۔ 4 مارچ کی طلبہ جدوجہد نے ون یونٹ کے قاہری کوٹ کو گرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ رسول بخش پلیجی صاحب نے 4 مارچ کی طلبہ جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا، انھوں نے طلبہ کی ضمانتیں بھی حاصل کیں اور قدم قدم پر ان کی رہنمائی کی۔ رسول بخش پلیجی صاحب اور شہید فاضل راہو نے 4 مارچ کو جدوجہد کرنے والے طلباء کا بھرپور ساتھ دیا۔اجلاس میں مزید کہا گیا کہ ایک منظم منصوبے کے تحت سندھ کی تعلیم کو تباہ کیا جا رہا ہے، تعلیمی اداروں کی گرانٹ کم کی جا رہی ہے اور غریب طلباء پر تعلیم کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ رشوت اور جانبداری کے ذریعے میرٹ کا قتل عام کیا جا رہا ہے، گریڈ اور نوکریاں بیچی جا رہی ہیں۔اجلاس میں سندھی اسٹوڈنٹ موومنٹ کا مرکزی کنونشن 19 اپریل کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔