Jasarat News:
2026-06-02@21:53:55 GMT

PCEMکے وفد کا دورہ گل پلازہ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

PCEM کے وفد نے 28 جنوری 2026 کو کراچی میں واقع گل پلازہ شاپنگ مال کا دورہ کیا، جہاں حالیہ ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں پوری عمارت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور اس وقت جائے حادثہ ملبے کے ڈھیر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ گل پلازہ شاپنگ مال میں تقریباً 1200 دکانیں قائم تھیں، جو اس سانحے میں جل کر خاک ہو گئیں۔ اس اندوہناک واقعے میں کم و بیش 100 سے زائد قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں اکثریت ان محنت کشوں کی تھی جو مختلف دکانوں پر کام کر کے اپنے گھروں کا چولہا جلاتے تھے۔ یہ سانحہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ ایک بڑا انسانی المیہ ہے۔
وفد میں عمران علی جنرل سیکرٹری، غلام مرتضیٰ تنولی ڈپٹی جنرل سیکرٹری، رحیم خان آفریدی انفارمیشن سیکرٹری شامل تھے، جنہوں نے متاثرین سے ملاقات کی، حالات کا جائزہ لیا اور فیڈریشن کی جانب سے مکمل اظہارِ یکجہتی کیا۔

ڈپٹی جنرل سیکرٹری غلام مرتضیٰ تنولی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ صوبہ سندھ میں لیبر قوانین موجود ہیں، جن میں شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ بھی شامل ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا گل پلازہ میں قائم تمام دکانیں اس قانون کے تحت رجسٹرڈ تھیں؟ کیا وہاں کام کرنے والے مزدوروں کا مکمل ریکارڈ محکمہ محنت (لیبر ڈیپارٹمنٹ) کے پاس موجود تھا، جو کہ اس کی بنیادی قانونی ذمہ داری ہے؟ انہوں نے کہا کہ تاجران کو کروڑوں روپے کے نقصان پر بات ہو رہی ہے، جس پر ہمیں بھی افسوس ہے، مگر اصل المیہ یہ ہے کہ دکانوں پر کام کرنے والے ورکرز کو کم از کم اجرت (Minimum Wage) سے بھی کم تنخواہ دی جا رہی تھی۔ بیشتر مزدور 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے پر مجبور تھے۔ نہ انہیں سوشل سیکورٹی میں رجسٹر کیا گیا۔ نہ EOBI (ای او بی آئی) میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ کیا ان مزدوروں کو بھی سانحہ بلدیہ جیسے سانحات کی طرح، حادثے اور اموات کے بعد رجسٹر کیا جائے گا؟ یا محکمہ محنت یہ بتائے گا کہ کیا ان تمام محنت کشوں کا ریکارڈ پہلے سے موجود تھا یا نہیں؟۔
ڈپٹی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے لیبر کوڈ بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، صوبہ سندھ میں لیبر قوانین کی کمی نہیں، مسئلہ صرف اور صرف عملدرآمد کا ہے۔ قوانین اگر صرف کتابوں تک محدود رہیں گے تو ایسے سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے۔

عملدرآمد کروانا کس کی ذمہ داری ہے؟
کیا سندھ میں لیبر قوانین صرف کاغذی کارروائی بن کر رہ جائیں گے یا ان پر حقیقی معنوں میں عمل بھی ہوگا؟
PCEM کے مطالبات
پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکر یونین (PCEM) حکومت سندھ اور محکمہ محنت سے مطالبہ کرتی ہے کہ گل پلازہ میں کام کرنے والے تمام مزدوروں کا مکمل ریکارڈ فوری طور پر عوام کے سامنے لایا جائے۔ شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ متاثرہ مزدوروں اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے۔ صوبہ سندھ میں لیبر قوانین پر مؤثر اور عملی عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ PCEM واضح کرتی ہے کہ محنت کشوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے جدوجہد ہر فورم پر جاری رکھی جائے گی۔

ویب ڈیسک گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ میں لیبر قوانین جنرل سیکرٹری کام کرنے گل پلازہ کام کر

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی