Jasarat News:
2026-07-24@10:14:10 GMT

PCEMکے وفد کا دورہ گل پلازہ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

PCEM کے وفد نے 28 جنوری 2026 کو کراچی میں واقع گل پلازہ شاپنگ مال کا دورہ کیا، جہاں حالیہ ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں پوری عمارت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور اس وقت جائے حادثہ ملبے کے ڈھیر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ گل پلازہ شاپنگ مال میں تقریباً 1200 دکانیں قائم تھیں، جو اس سانحے میں جل کر خاک ہو گئیں۔ اس اندوہناک واقعے میں کم و بیش 100 سے زائد قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں اکثریت ان محنت کشوں کی تھی جو مختلف دکانوں پر کام کر کے اپنے گھروں کا چولہا جلاتے تھے۔ یہ سانحہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ ایک بڑا انسانی المیہ ہے۔
وفد میں عمران علی جنرل سیکرٹری، غلام مرتضیٰ تنولی ڈپٹی جنرل سیکرٹری، رحیم خان آفریدی انفارمیشن سیکرٹری شامل تھے، جنہوں نے متاثرین سے ملاقات کی، حالات کا جائزہ لیا اور فیڈریشن کی جانب سے مکمل اظہارِ یکجہتی کیا۔

ڈپٹی جنرل سیکرٹری غلام مرتضیٰ تنولی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ صوبہ سندھ میں لیبر قوانین موجود ہیں، جن میں شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ بھی شامل ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا گل پلازہ میں قائم تمام دکانیں اس قانون کے تحت رجسٹرڈ تھیں؟ کیا وہاں کام کرنے والے مزدوروں کا مکمل ریکارڈ محکمہ محنت (لیبر ڈیپارٹمنٹ) کے پاس موجود تھا، جو کہ اس کی بنیادی قانونی ذمہ داری ہے؟ انہوں نے کہا کہ تاجران کو کروڑوں روپے کے نقصان پر بات ہو رہی ہے، جس پر ہمیں بھی افسوس ہے، مگر اصل المیہ یہ ہے کہ دکانوں پر کام کرنے والے ورکرز کو کم از کم اجرت (Minimum Wage) سے بھی کم تنخواہ دی جا رہی تھی۔ بیشتر مزدور 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے پر مجبور تھے۔ نہ انہیں سوشل سیکورٹی میں رجسٹر کیا گیا۔ نہ EOBI (ای او بی آئی) میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ کیا ان مزدوروں کو بھی سانحہ بلدیہ جیسے سانحات کی طرح، حادثے اور اموات کے بعد رجسٹر کیا جائے گا؟ یا محکمہ محنت یہ بتائے گا کہ کیا ان تمام محنت کشوں کا ریکارڈ پہلے سے موجود تھا یا نہیں؟۔
ڈپٹی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے لیبر کوڈ بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، صوبہ سندھ میں لیبر قوانین کی کمی نہیں، مسئلہ صرف اور صرف عملدرآمد کا ہے۔ قوانین اگر صرف کتابوں تک محدود رہیں گے تو ایسے سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے۔

عملدرآمد کروانا کس کی ذمہ داری ہے؟
کیا سندھ میں لیبر قوانین صرف کاغذی کارروائی بن کر رہ جائیں گے یا ان پر حقیقی معنوں میں عمل بھی ہوگا؟
PCEM کے مطالبات
پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکر یونین (PCEM) حکومت سندھ اور محکمہ محنت سے مطالبہ کرتی ہے کہ گل پلازہ میں کام کرنے والے تمام مزدوروں کا مکمل ریکارڈ فوری طور پر عوام کے سامنے لایا جائے۔ شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ متاثرہ مزدوروں اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے۔ صوبہ سندھ میں لیبر قوانین پر مؤثر اور عملی عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ PCEM واضح کرتی ہے کہ محنت کشوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے جدوجہد ہر فورم پر جاری رکھی جائے گی۔

ویب ڈیسک گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ میں لیبر قوانین جنرل سیکرٹری کام کرنے گل پلازہ کام کر

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار